ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے متحدہ عرب امارات United Arab Emirates میں مقیم پاکستانی کارکنوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی ہیں، جس کے باعث متعدد پاکستانی ملازمین وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ افرادی قوت بیرونِ ملک بھجوانے والے ادارے بھی شدید مالی اور انتظامی دباؤ کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ علاقائی صورتحال کے بعد خاص طور پر Dubai میں پاکستانیوں کے روزگار اور رہائشی معاملات متاثر ہوئے ہیں۔ کئی کمپنیوں نے غیر یقینی حالات کے باعث اپنے معاہدے منسوخ یا معطل کر دیے ہیں، جبکہ متعدد پاکستانی کارکنوں کے بینک اکاؤنٹس اور ورک پرمٹس سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔
اوورسیز روزگار کے شعبے سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ ویزا پالیسیوں میں پہلے سے موجود سختیوں کے باعث پاکستانیوں کے لیے مشکلات پہلے ہی بڑھ رہی تھیں، تاہم ایران۔امریکا تنازع نے صورت حال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سیکڑوں پاکستانی واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں اور مزید واپسیوں کا خدشہ موجود ہے۔
پروموٹرز کا موقف
شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پاکستانی پروموٹرز نے خلیجی ممالک میں بھاری مالی ضمانتیں جمع کرا رکھی ہیں، جبکہ پاکستان میں لائسنسنگ اور دیگر سرکاری تقاضوں کی مد میں بھی خطیر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس غیر یقینی صورتحال نے ان سرمایہ کاریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رہنماؤں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر زرِ مبادلہ کی صورت میں وطن بھیجتے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے، لیکن موجودہ بحران کے باوجود متاثرہ کارکنوں اور پروموٹرز کے لیے مؤثر حکومتی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔
مذید پڑھئِں
یو اے ای کو فوجی فاونڈیشن کے ایک ارب ڈالر کے شئیرز فروخت کیے جا یں گے – urdureport.com
یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کے ویزے بند کر دئیے،وزارت داخلہ کی تصدیق – urdureport.com
امریکا اور ایران 14 نکاتی معاہدہ:48 گھنٹوں میں اہم پیشرفت کا امکان – urdureport.com
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی طویل ہوئی تو خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے بلکہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔


