پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے پانی کو بیاس بیسن کی طرف منتقل کرنے کے مبینہ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے خطے کے امن، معیشت اور آبی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بھارت مبینہ طور پر “چناب-بیاس لنک ٹنل پروجیکٹ” کے ذریعے چناب کے پانی کا ایک بڑا حصہ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جو پاکستان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ملک کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی کو متاثر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
پانی منتقل کرنے کا منصوبہ کیا؟
بھارتی میڈیا رپورٹس اور حکومتی حلقوں کے مطابق اس منصوبے کے تحت ہمالیائی خطے میں ایک طویل ٹنل کے ذریعے دریائے چناب کے اضافی پانی کو بیاس کی طرف منتقل کرنے کی تجویز ہے، جس کا مقصد ہائیڈرو پاور پیداوار اور زرعی ضروریات کو پورا کرنا بتایا جا رہا ہے۔
8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا یہ اربوں روپے کا منصوبہ ہے اور پاکستان کو اس پر شدید اعتراضات اور تححفظات ہیں ۔
انڈین نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے اس منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیے ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض رہنماؤں کے مطابق یہ منصوبہ پانی کے وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔
بھارتی مؤقف کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی بلکہ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان جیسے علاقوں کی زرعی ضروریات بھی پوری ہوں گی۔
یہ ٹنل دراصل انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کوکسار میں بنے گا۔انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق چناب۔بیاس لنک منصوبہ 2620 کروڑ روپے کی لاگت سے بنے گا۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں کے پانی کو یکطرفہ طور پر موڑنا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، اور پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب آبی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اگرچہ تکنیکی طور پر کچھ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق پاکستان کو مجموعی پانی کی فراہمی پر اس کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں کیونکہ چناب میں آنے والا پانی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بھی اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔
مذید خبریں
ایران جنگ ! امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے اختیارات محدود کر دئیے – urdureport.com
صدر ٹرمپ نے نیت’ن یا’ہو کو پاگل کہنے کی تصدیق کردی – urdureport.com
ماہرین کے مطابق اصل خدشہ یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے منصوبے خطے میں پانی کی تقسیم کے موجودہ نظام کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس سے سیاسی اور سفارتی سطح پر تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم طے شدہ ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو سفارتی اور قانونی فورمز پر اٹھایا جا رہا ہے۔


