امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک چرچ کے سربراہ پہلے امریکی نژاد پوپ لیو XIV پر شدید نقید یہ تنقید پوپ کے جنگ مخالف امن پسندانہ بیانات کی وجہ سے ہوئی۔
پوپ لیو pope leo نے امریکہ کی ایران پر حملوں اور ٹرمپ کی دھمکیوں کو "ناقابل قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ "خدا کسی جنگ کی دعائیں نہیں سنتا” اور "طاقت کے زعم” سے جنگیں جنم لیتی ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی اور امن کی اپیل کی تھی۔
ٹرمپ کی پوسٹ
اتوار کی رات 12-13 اپریل 2026 کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک طویل پوسٹ میں ئ پر حملہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ "پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور (WEAK on Crime) اور خارجہ پالیسی کے لیے ناقص (terrible for Foreign Policy) ہیں”۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "میں ایسے پوپ کو نہیں چاہتا جو ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دے”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پوپ "ریڈیکل لیفٹ” کی طرفداری کر رہے ہیں اور امریکی صدر کی تنقید کرتے ہوئے اپنے فرض سے غافل ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پوپ کو صرف اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ وہ امریکی ہیں، تاکہ ٹرمپ سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے لکھا کہ "اگر میں وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتا تو لیو ویٹیکن میں نہ ہوتا”۔
ٹرمپ کے صحافیوں سے گفتگو
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ trump نے کہا کہ "میں پوپ لیو کا بڑا مداح نہیں ہوں، وہ بہت لبرل شخص ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنا کام اچھا نہیں کر رہے”۔
پوپ لیو کا پیغام
پوپ لیو XIV نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ "ٹرمپ انتظامیہ سے خوفزدہ نہیں”۔ الجزائر جاتے ہوئے papal plane پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "میں کسی بحث میں نہیں پڑوں گا
انجیل کا پیغام بالکل واضح ہے: ‘مبارک ہیں وہ جو امن قائم کرنے والے ہیں'”۔ پوپ نے زور دیا کہ وہ جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ "بہت سے معصوم لوگ مارے جا رہے ہیں”۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا پیغام سیاست نہیں بلکہ انجیل پر مبنی ہے اور وہ امن، مفاہمت اور ملٹی لیٹرلزم کی بات کریں گے۔
ایرانی صدر کا ردعمل
اس تنازع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فوری اور سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے پوپ لیو XIV کی مکمل حمایت کی اور ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی۔
ایرانی صدر نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر پوپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: "جناب پوپ لیو ، میں ایران کی عظیم قوم کی طرف سے آپ کی شان میں کی گئی توہین کی مذمت کرتا ہوں”۔
انہوں نے مزید کہا: "میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ امن اور بھائی چارے کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کسی بھی آزاد شخص کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اللہ آپ کو عزت و شرف عطا فرمائے”۔
پزشکیان نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں اور برادریوں کے درمیان باہمی احترام ضروری ہے اور کسی کی توہین سے امن اور بقائے باہمی کے مشترکہ اقدار کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ بیان ایران کی جانب سے پوپ کی جنگ مخالف آواز کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی بات چیت جاری ہے۔
یہ واقعہ عالمی سطح پر بڑی توجہ کا باعث بنا ہے کیونکہ امریکی صدر اور پوپ کے درمیان براہ راست تنازع نادر ہے۔ ایرانی صدر کا فوری ردعمل اسے مزید اہمیت دیتا ہے اور مذہبی رہنماؤں کے احترام پر عالمی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


