امریکہ کی جانب سے مبینہ ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد اب تک صرف 15 بحری جہاز اس اہم آبنائے سے گزر سکے ہیں، جن میں سے 9 جہاز ایران سے منسلک بتائے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 800 بحری جہاز کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز کے اندر یا آس پاس پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کارگو سے بھرے ہوئے ہیں۔

امریکی سینٹکام کا موقف
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام جہازوں پر لاگو ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ابتدائی 36 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی جہاز ناکہ بندی عبور نہ کر سکا جبکہ 6 جہازوں کو واپس لوٹنے کے احکامات دیے گئے۔
کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جو جہاز آبنائے سے گزرے ان میں سے 6 پہلے ایرانی بندرگاہوں کا دورہ کر چکے تھے، جبکہ 2 جہاز ایران کے چابہار بندرگاہ کے قریب سے روانہ ہوئے۔
ٹریکنگ ڈیٹا سے توثیق
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ شپ ٹریکنگ ڈیٹا سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کوئی مکمل طور پر تیل یا گیس سے بھرے ٹینکر کھلے سمندر کی طرف روانہ ہوئے ہوں اس لیے ان کی شناخت واضع نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق بعض جہاز اپنی لوکیشن بند کر دیتے ہیں یا غلط سگنل بھیجتے ہیں جسے “spoofing” کہا جاتا ہے، جس سے اصل صورتحال کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔
کے مطابق ایک امریکی پابندیوں کا شکار ٹینکر “Rich Starry” متحدہ عرب امارات سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز تک پہنچا، تاہم بعد میں اس نے واپس خلیجی پانیوں کی طرف رخ کر لیا۔ اسی طرح دو ایرانی پرچم بردار جہاز بھی چابہار کے قریب سے نقل و حرکت کرتے دیکھے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ سے پہلے اس آبنائے سے روزانہ اوسطاً 138 بحری جہاز گزرتے تھے، لیکن اس کے بعد صورتحال میں آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحریہ ہر اس ایرانی اقدام کے خلاف کارروائی کرے گی جو ان کے مطابق جارحیت یا رکاوٹ کا باعث بن۔
آبی سرنگیں اور خطرناک زون
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال بہتر ہوتی ہے تو سب سے پہلے انہی جہازوں کو باہر نکالنے کو ترجیح دی جائے گی۔
مزید خدشہ بارودی سرنگوں (sea mines) کا بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) نے مبینہ طور پر مخصوص بحری راستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے وسطی علاقے کو “خطرناک زون” قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس علاقے میں دو جنگی بحری جہاز بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ بارودی سرنگوں کو صاف کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے


