پیشاب کرنے کے بعد چند قطرے ٹپکنے کے مسئلے کو طبی اصطلاح میں پوسٹ وائڈ ڈرِبلنگ (Post-Void Dribbling – PVD) کہا جاتا ہے۔
یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پیشاب کرنے کے چند لمحوں بعد یا بیت الخلا سے نکلتے ہی اچانک پیشاب کے چند قطرے غیر ارادی طور پر خارج ہو جاتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ بظاہر معمولی نظر آتا ہے، لیکن یہ متاثرہ افراد کی روزمرہ زندگی، ذہنی سکون اور خود اعتمادی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر لوگ اسے بڑھاپے سے جوڑتے ہیں، لیکن یہ نوجوان مردوں میں بھی کافی حد تک پایا جاتا ہے۔
مسئلہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟
ڈاکٹروں کے مطابق پیشاب کی نالی (یوریتھرا) میں اگر پیشاب کی معمولی مقدار رہ جائے تو وہ بعد میں باہر آ کر قطروں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
اس کیفیت کو مکمل طور پر “پیشاب پر قابو نہ رہنے” کی بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک الگ فنکشنل مسئلہ ہوتا ہے جو زیادہ تر پیلوک فلور کے پٹھوں کی کمزوری سے جڑا ہوتا ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بعض صورتوں میں پروسٹیٹ غدود کا بڑھ جانا یا پیشاب کی نالی میں رکاوٹ بھی اس کیفیت کو بڑھا سکتی ہے، تاہم نوجوان افراد میں زیادہ تر کیسز میں کوئی سنگین بیماری موجود نہیں ہوتی۔
پیلوک فلور کا کردار
پیلوک فلور جسم کے نچلے حصے میں موجود پٹھوں کا وہ نظام ہے جو مثانے، آنتوں اور پیشاب کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ پٹھے جسمانی دباؤ جیسے کھانسی، چھینک یا بھاری وزن اٹھانے کے دوران اندرونی اعضا کو سہارا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب یہ پٹھے کمزور ہو جائیں یا درست طریقے سے کام نہ کریں تو پیشاب مکمل طور پر خارج نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں بعد میں قطرے ٹپکنے لگتے ہیں۔
علامات کیا ہیں؟
اس مسئلے کی عام علامات میں شامل ہیں:
- پیشاب کے فوراً بعد قطرے نکل آنا
- زیر جامہ کا گیلا ہو جانا
- پیشاب کے بعد غیر یقینی کیفیت یا بار بار چیک کرنا
- بعض اوقات ہلکی سی جلن یا تکلیف کا احساس
اگرچہ یہ علامات عام طور پر خطرناک نہیں ہوتیں، لیکن یہ روزمرہ زندگی میں ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
کب تشویش کی ضرورت ہے؟
اگر پی وی ڈی کے ساتھ درج ذیل علامات بھی ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری سمجھا جاتا ہے:
- پیشاب میں خون آنا
- جلن یا درد کے ساتھ پیشاب آنا
- بار بار پیشاب کی حاجت
- پیشاب کی دھار کا کمزور ہونا
- پیٹ کے نچلے حصے میں مسلسل درد
ایسی صورتوں میں انفیکشن، پروسٹیٹ کی سوزش یا نالی کی تنگی جیسے مسائل کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
تشخیص اور علاج
ڈاکٹر عموماً مریض کی علامات، جسمانی معائنے اور سادہ ٹیسٹ جیسے یورینلائسز یا یورو فلو میٹری کے ذریعے تشخیص کرتے ہیں۔ بعض پیچیدہ کیسز میں مزید تفصیلی ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا بنیادی علاج پیلوک فلور کی درست ورزشیں ہیں۔ ان ورزشوں کے ذریعے پٹھوں کو مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ پیشاب کے بعد باقی رہ جانے والا مواد مکمل طور پر خارج ہو سکے۔
اس کے علاوہ “یوریتھرا ملکنگ” جیسی تکنیک بھی استعمال کی جاتی ہے جس میں پیشاب کے بعد مخصوص حصے پر ہلکا دباؤ ڈال کر باقی قطرے خارج کرنے میں مدد لی جاتی ہے۔
اہم احتیاطیں
ڈاکٹروں کے مطابق عام غلطیوں میں غلط ورزشیں، غیر باقاعدہ مشق، یا غلط پٹھوں کا استعمال شامل ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش درست طریقے سے اور مستقل مزاجی کے ساتھ کی جائے، ورنہ فائدے کے بجائے کوئی اثر نہیں ہوتا۔
پوسٹ وائڈ ڈرِبلنگ قابو کیسے کریں؟
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پوسٹ وائڈ ڈرِبلنگ ایک عام اور زیادہ تر غیر خطرناک مسئلہ ہے، جو مناسب طرزِ زندگی، درست ورزشوں اور چند سادہ احتیاطی تدابیر سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر علامات بڑھ جائیں یا دیگر پیچیدہ مسائل سامنے آئیں تو بروقت طبی مشورہ لینا ضروری ہے
’بہت سے مرد صرف ’پٹھوں کو مضبوط کرنے‘ کی ورزشیں کرتے ہیں لیکن انھیں پیلوک فلور کو درست طریقے سے مستحکم کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا جاتا۔ ورزش کو درست طریقے سے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئِے


