امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں خلیج کے علاقے میں پیش آنے والے ایک تازہ واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحرنیہ نے ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’توسکا‘ نامی جہاز کو رکنے کی متعدد وارننگز دی گئیں، تاہم عمل نہ کرنے پر کارروائی کی گئی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک جنگی جہاز ایرانی کارگو شپ کا تعاقب کر رہا ہے اور وارننگ کے بعد اس کی سمت میں فائرنگ بھی کی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خلیج میں جاری بحری نگرانی کے دوران عمل میں لائی گئی۔دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے Khatam al-Anbiya Central Headquarters کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، اس کے نیویگیشن نظام کو متاثر کیا اور مسلح اہلکاروں کو جہاز پر اتارنے کی کوشش کی۔ایرانی حکام نے اس واقعے کو ’مسلح بحری ڈکیتی‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں
یہ بھی پڑھئِے


