یورینیم کی افزودگی (Enrichment) ایک ایسا حساس سائنسی عمل ہے جو بیک وقت توانائی کے حصول اور عالمی سلامتی(جوہری بم )دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ عالمی سیاست، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یورینیم سے جوہری توانائی پیدا کرنا

قدرتی یورینیم میں زیادہ تر حصہ یورینیم-238 پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ صرف تقریباً 0.7 فیصد یورینیم-235 ہوتا ہے، جو جوہری توانائی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ افزودگی کے عمل کے ذریعے اسی یورینیم-235 کی مقدار کو بڑھایا جاتا ہے، عموماً گیس سینٹری فیوجز کی مدد سے، کیونکہ دونوں آئسوٹوپس کو کیمیائی طریقے سے الگ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
جوہری بجلی گھروں میں استعمال ہونے والا ایندھن عام طور پر 3 سے 5 فیصد تک افزودہ کیا جاتا ہے، جو توانائی پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور اسے کم افزودہ یورینیم کہا جاتا ہے۔ اس سطح پر ہونے والا جوہری ردِعمل کنٹرول میں رہتا ہے اور طویل عرصے تک بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم جب افزودگی کی سطح 20 فیصد سے تجاوز کر جاتی ہے تو اسے حساس مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس حد کے بعد یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے تک لے جانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
جوہری ہتھیاروں atomic powerکے لیے عموماً 90 فیصد یا اس سے زیادہ افزودہ یورینیم درکار ہوتا ہے، جس میں ردِعمل انتہائی تیز اور بے قابو ہو کر شدید دھماکے کا باعث بنتا ہے۔
یورینیم کا دوہرا استعمال
یہی دوہری نوعیت یعنی ایک ہی ٹیکنالوجی کا پرامن اور عسکری دونوں مقاصد کے لیے استعمال،بین الاقوامی تشویش کی بنیاد ہے۔ International Atomic Energy Agency (IAEA) جیسے عالمی ادارے افزودگی کے عمل کی سخت نگرانی کرتے ہیں تاکہ اس کا استعمال صرف پُرامن مقاصد تک محدود رہے۔
ایران پر جوہری صلاحیت کا الزام
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار، طبی تحقیق اور سائنسی ترقی کے لیے ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہے۔ دوسری جانب امریکہ کا الزام ہے کہ ایران نے افزودگی کی سطح کو ضرورت سے زیادہ بڑھا دیا ہے اور وہ ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ افزودگی کا عمل نہیں بلکہ اس کی سطح اور اس کے گرد شفافیت ہے۔ چونکہ وہی سینٹری فیوجز جو بجلی کے لیے ایندھن تیار کرتے ہیں، ہتھیاروں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ ٹیکنالوجی عالمی سطح پر انتہائی حساس تصور کی جاتی ہے۔
اسی پس منظر میں یورینیم کی افزودگی نہ صرف سائنسی عمل بلکہ ایک اہم سفارتی اور سیاسی مسئلہ بھی بن چکی ہے، جس پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


