امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہونے جا رہے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک وفد پاکستان روانہ ہو چکا ہے جو چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچے گا۔ ان کے مطابق اگر پیش رفت ہوئی تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ “ہم ایران کے ساتھ بہتر ڈیل کر رہے ہیں، یہ کوئی کھیل نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات ہیں”۔ ان کے مطابق وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر حقیقی مطالبات پر قائم ہے۔
پاکستان کا کردار
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور دونوں فریقین سے رابطے جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی وزیراعظم سے رابطے میں پاکستان کے “تعمیری کردار” کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین اس عمل کی حمایت کرے گی۔
خطے میں کشیدگی اور الزامات
ایرانی ترجمان نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ بحری ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ادھر امریکی سینٹکام نے ایک ایرانی کارگو جہاز پر کارروائی کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جہاز کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی
غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، کئی شاہراہیں بند ہیں اور میٹرو بس سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق امریکی ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم کے چھ طیارے نور خان ایئربیس پر پہنچ چکے ہیں، جو لاجسٹک سامان اور گاڑیاں بھی لائے ہیں۔
صورتحال
موجودہ صورتحال میں ایک طرف امریکا مذاکرات کو آگے بڑھانے کا دعویٰ کر رہا ہے جبکہ ایران نے ابھی تک شرکت کی حتمی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان اس پورے عمل میں ثالثی اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس بنی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


