برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں ہاؤس آف کامنز میں ایک غیر معمولی واقعے کے دوران رکنِ پارلیمنٹ زارہ سلطانہ کو پانچ روز کے لیے معطل کر دیا گیا، جب انہوں نے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کو بحث کے دوران “صاف جھوٹا” قرار دیا اور اسپیکر کے حکم کے باوجود اپنے الفاظ واپس لینے سے انکار کر دیا۔
Keir Starmer is a barefaced liar and if he had any decency, he would resign. pic.twitter.com/Fu56RrKfX8
— Zarah Sultana MP (@zarahsultana) April 20, 2026
کا پاکستان سے تعلق براہِ راست نہیں بلکہ خاندانی نوعیت کا ہے۔ ان کے والدین پاکستانی نژاد ہیں اور ان کا تعلق کشمیری یا پنجابی پس منظر سے بتایا جاتا ہے، تاہم زارا سلطانہ خود برطانیہ میں پیدا ہوئیں اور وہیں پرورش پائی۔
وہ برطانوی سیاست میں ایک سرگرم رکن کے طور پر جانی جاتی ہیں، لیکن اکثر ایسے مسائل پر آواز اٹھاتی ہیں جو پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے جڑے ہوتے ہیں، جن میں کشمیر، اسلاموفوبیا اور تارکینِ وطن کے حقوق شامل ہیں۔ اس طرح اگرچہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں، لیکن ان کی خاندانی جڑیں پاکستان سے وابستہ ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
یہ واقعہ وزیر اعظم کے سوال و جواب کے سیشن (PMQs) کے دوران پیش آیا، جہاں حکومت کی جانب سے Peter Mandelson کی امریکا میں ممکنہ سفارتی نامزدگی اور اس سے متعلق سیکیورٹی کلیئرنس کے معاملے پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
اپنی نشست سے خطاب کرتے ہوئے زارا سلطانہ Zarah Sultana نے کہا کہ انہیں اپنے حلقے کے عوام سے سچ بولنے کی ذمہ داری ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے وزیر اعظم Keir Starmer پر “جھوٹ بولنے” کا الزام عائد کیا
اسپیکر کی مداخلت اور کارروائی
ایوان کی کارروائی کی صدارت کرنے والے اسپیکر Lindsay Hoyle نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے زارا سلطانہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں، کیونکہ پارلیمانی قواعد کے تحت کسی رکن کو “liar” کہنا ممنوع ہے۔
تاہم، زارا سلطانہ نے انکار کیا، جس پر اسپیکر نے انہیں باقاعدہ طور پر “named” کر دیا—یہ ایک پارلیمانی عمل ہے جس کے بعد رکن کے خلاف تادیبی کارروائی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
اس کے بعد حکومت کی جانب سے معطلی کی تحریک پیش کی گئی، جسے ایوان نے ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔
معطلی کے اثرات
فیصلے کے مطابق:
- زارا سلطانہ پانچ دن تک پارلیمانی کارروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گی
- اس مدت کے دوران انہیں تنخواہ بھی نہیں ملے گی
یہ سزا برطانوی پارلیمانی روایات کے مطابق ایک سخت مگر معمول کی تادیبی کارروائی سمجھی جاتی ہے۔
سیاسی پس منظر
زارا سلطانہ ماضی میں لیبر پارٹی سے وابستہ رہی ہیں، تاہم بعد ازاں انہوں نے Jeremy Corbyn کے ساتھ الگ سیاسی دھڑے میں شمولیت اختیار کی۔ وہ حکومت کی پالیسیوں، خصوصاً خارجہ امور اور سیکیورٹی معاملات پر کھل کر تنقید کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔
تنازع کی نوعیت
وزیر اعظم پر لگایا گیا “جھوٹ” کا الزام ایک سیاسی موقف ہے، جس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔ حکومت کا مؤقف عموماً یہ ہوتا ہے کہ تمام فیصلے اور بیانات قواعد و ضوابط کے مطابق دیے گئے، جبکہ ناقدین شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔
پارلیمانی روایت
برطانوی پارلیمنٹ میں شائستہ زبان کا استعمال ایک بنیادی اصول ہے، اور کسی رکن کو براہِ راست جھوٹا کہنا “غیر پارلیمانی زبان” کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے ایسے معاملات میں اسپیکر فوری کارروائی کرتے ہیں تاکہ ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئیں


