امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی باقاعدہ معاہدہ طے نہ پایا تو موجودہ دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز ختم ہو گی جس میں توسیع کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بغیر خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے Bloomberg کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، Strait of Hormuz میں ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔ ایک اور انٹرویو میں PBS News سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر جنگ بندی ختم ہوئی تو خطے میں بڑے پیمانے پر حملوں کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود مسعود پزشکیان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بامعنی مذاکرات اسی وقت ممکن ہیں جب فریقین اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ انہوں نے امریکی مؤقف کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ادھر اسلام آباد میں ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی روانگی کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ وفد جلد پاکستان کے لیے روانہ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل وفد مذاکرات کے لیے روانہ ہو چکا ہے اور جلد Islamabad پہنچے گا، تاہم سفری فاصلے اور تکنیکی وجوہات کے باعث فوری آمد کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


