امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپDonald Trump کی پیدائشی شہریت بارئے ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ نے بھارت میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے۔
اس پوسٹ میں امریکہ میں “پیدائش پر شہریت” کے قانون پر تنقید کرتے ہوئے بھارت اور چین کے لیے نامناسب زبان استعمال کی گئی، جس پر بھارتی حکومت اور اپوزیشن دونوں نے سخت اعتراض اٹھایا۔
یہ پوسٹ دراصل قدامت پسند مبصر Michael Savage کے ایک پوڈکاسٹ سے لی گئی تھی، جسے ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔
اس میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ غیر ملکی شہری امریکہ آ کر بچوں کی پیدائش کے ذریعے شہریت حاصل کرتے ہیں اور بعد ازاں اپنے خاندان کو بھی وہاں بلا لیتے ہیں۔ تحریر میں بھارت اور چین کو “زمین پر جہنم” جیسے الفاظ سے بھی تعبیر کیا گیا، جسے بڑے پیمانے پر توہین آمیز قرار دیا گیا۔
اس پوسٹ میں پیدائش پر شہریت کے حق کے قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’لوگ حمل کے نویں مہینے میں امریکہ آ جاتے ہیں اور (پیدائش کے فوری بعد) بچہ امریکی شہری بن جاتا ہے۔ اور پھر وہ چین یا انڈیا یا زمین پر موجود کسی اور جہنم (جہنم جیسے مقام) سے پورے کا پورا خاندان امریکہ لے آتے ہیں
بھارت کا ردعمل
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Randhir Jaiswal نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات “لاعلمی پر مبنی، نامناسب اور غیر موزوں” ہیں اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی صحیح عکاسی نہیں کرتے، جو باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
ادھر بھارت کی اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے بھی اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی نے ٹرمپ کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم Narendra Modi پر تنقید کی کہ وہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ کانگریس کا کہنا تھا کہ اس بیان سے ہر بھارتی شہری کی دل آزاری ہوئی ہے۔
اسی طرح عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا نے بھی ٹرمپ کے بیان کو ان کی “لاعلمی اور تکبر” کی عکاسی قرار دیا۔یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں “پیدائش پر شہریت” کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔
یہ حق امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت دیا گیا تھا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس قانون میں تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے، جس کے خلاف عدالتوں میں مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف سفارتی تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی کو بھی بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئِے


