یرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی Abbas Araghchi کے حالیہ دورۂ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے بعد نئی سفارتی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں، جن میں ایران کی جانب سے امریکہ کے لیے اہم پیغامات بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق عباس عراقچی پاکستان پہنچنے پر ایسے تحریری پیغامات ساتھ لائے تھے جن میں ایران کی جوہری پالیسی کی سرخ لکیروں اور Strait of Hormuz سے متعلق مؤقف واضح کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیغامات پاکستانی حکام تک پہنچائے گئے، تاہم اسے کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کا حصہ قرار نہیں دیا جا رہا بلکہ اسے خطے کی صورتحال پر ایران کی وضاحت اور پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کہا گیا ہے۔
دورۂ اسلام آباد کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر Asim Munir سے ملاقات بھی کی، جس میں باہمی تعلقات اور علاقائی سکیورٹی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
عراقچی کی ماسکو سرگرمیاں
ایرانی وزیر خارجہ اس سے قبل Muscat میں بھی اہم ملاقاتیں کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے خلیج فارس میں نئے علاقائی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں وہ اپنا سفارتی دورہ جاری رکھتے ہوئے Moscow روانہ ہو گئے ہیں، جہاں ان کی روسی صدر Vladimir Putin سے ملاقات متوقع ہے۔
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر Reza Amiri Moghadam نے اس دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور خطے کی مجموعی صورتحال پر مشاورت کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دورہ ایران کے وسیع تر علاقائی سفارتی مشن کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئیے
ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا،جنگ توسیع ٹرمپ – urdureport.com
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے امریکی وفد کی آمد متوقع – urdureport.com
ایرانی سفیر نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت، خصوصاً وزیر اعظم Shehbaz Sharif اور آرمی چیف عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا، جس میں پاکستانی اداروں، سکیورٹی فورسز اور عوام کے تعاون کا اہم کردار رہا۔ اس موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کی مہمان نوازی کو بھی سراہا گیا۔


