اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ 120 دنوں کے اندر اپنے تمام ریکارڈز مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دے، تاکہ شہری اپنی درخواستوں کی صورتحال آن لائن چیک کر سکیں۔
یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران جاری کی گئیں، جس کی صدارت وزیر داخلہ نے کی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں جاری عوامی منصوبوں اور آئندہ ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
محسن نقوی نے زور دیا کہ شہر میں کسی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر مجاز ڈویلپرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شفافیت بڑھانے اور عوامی رسائی بہتر بنانے کے لیے ریکارڈز اور خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں بڑے انفراسٹرکچر اور تفریحی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے وزیر کو آگاہ کیا کہ کنونشن سینٹر، ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد ایرینا کی تعمیر کے لیے تین بین الاقوامی کمپنیوں کی پری کوالیفکیشن مکمل کر لی گئی ہے، اور ہدایت دی گئی کہ یہ منصوبے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے آئندہ اجلاس سے پہلے مکمل کیے جائیں۔
ایف سکس نیا سروس سیکٹر
سی ڈی اے نے اجلاس کو بتایا کہ ایف-6 سیکٹر میں ایک نئے سروس سینٹر کے لیے زمین مختص کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں تفریحی سہولیات بڑھانے کے لیے گالف کورس، ہاٹ ایئر بیلون رائیڈز، زپ لائن، واٹر پارک اور امیوزمنٹ پارک جیسے منصوبوں پر بھی کام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
محسن نقوی نے حکام کو ہدایت دی کہ ایک جدید اسپورٹس کمپلیکس تیار کیا جائے اور ایف نائن پارک کو عالمی معیار کے تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کے لیے جامع منصوبہ بنایا جائے، جو ہائڈ پارک کی طرز پر ہو۔ انہوں نے شاہدرہ ڈیم کے اطراف سیاحت اور تفریحی سہولیات متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی۔
مزید برآں وزیر داخلہ نے اسلام آباد ایکسپریس وے اور کلب روڈ کی فوری خوبصورتی اور روشنی کے انتظامات بہتر بنانے کے احکامات بھی جاری کیے تاکہ شہر کی مجموعی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں سی ڈی اے کے چیئرمین نے بتایا کہ ایکسپریس وے کی سروس روڈ کی تعمیر پلاننگ ڈویژن سے منظوری کے بعد شروع کی جائے گی
اسلام آباد میں قانونی اور غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیاں
واضع رہے کہ اس وقت اسلام اباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی این اے) نے 99 ہاؤسنگ سوسائٹیز کو غیر منظور شدہ قرار دیا ہے، جبکہ 74 کو منظور کیا گیا ہے اسی طرح راولپنڈی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے 48 سوسائٹیز کو غیر قانونی اور غیر منظور شدہ جبکہ 83 ہاؤسنگ سوسائٹی کو منظور شدہ اور قانونی قرار دیا ہے۔
سی ڈی اے کا انتباہ
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے عوام کو متعدد بار آگاہ کیا گیا ہے کہ سی ڈی اے آرڈیننس 1960، آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے مرتب کردہ ترمیمی طریقہ کار کے تحت اسلام آباد میں نجی ہاؤسنگ، فارم ہاؤسنگ، اپارٹمنٹ اور کمرشل اسکیموں کی منصوبہ بندی اور ترقی کے تمام امور کی نگرانی اور ریگولیشن کا اختیار سی ڈی اے کے پاس ہے۔ سیکشن 51 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ’پرائیویٹ ہاؤسنگ/ فارم ہاؤسنگ، اپارٹمنٹ/ کمرشل اسکیموں کی منصوبہ بندی و ترقی کے ضوابط 2023‘ جاری کیے ہیں، جو آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز 1992 کے تحت زونII، IV اور V پر لاگو ہوتے ہیں۔
سی ڈی اے کے مطابق نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری 2 مراحل میں دی جاتی ہے ، پہلے لے آؤٹ پلان (LOP) کی ٹیکنیکل منظور اور بعد ازاں تمام قانونی تقاضے پورے ہونے پر این او سی (NOC) جاری کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی اسپانسرز کو ترقیاتی کام اور پلاٹس کی فروخت کی اجازت ہوتی ہے۔ البتہ ہاؤسنگ سوسائٹی مالکان شروع میں ہی پلاٹ فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
سی ڈی اے نے واضح کیا کہ این او سی کے بغیر کسی بھی اسکیم میں ترقیاتی سرگرمیوں یا پلاٹس کی فروخت کی اجازت نہیں ہے، سی ڈی اے نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ پلاٹ خریدنے سے قبل متعلقہ اسکیم کا LOP اور NOC ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی نقصان یا فراڈ سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئِے


