پاکستان کے انتہائی مشکل سمجھے جانے والے سی ایس ایس امتحانات میں اس سال سندھ سے تعلق رکھنے والے دو ہندو نوجوانوں، جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا نے نمایاں کامیابی حاصل کر کے نئی مثال قائم کر دی۔ دونوں نوجوانوں کو پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
اس سال ملک بھر سے 12 ہزار 792 امیدواروں نے سی ایس ایس امتحان دیا، مگر صرف 355 امیدوار کامیاب قرار پائے، جبکہ کوٹہ سسٹم اور دستیاب آسامیوں کے تحت 170 افراد کو ملازمت کے لیے منتخب کیا گیا۔
کھیم چند جنڈوڑا: ماں کے زیورات اور والد کا قرض
کھیم چند کا تعلق سندھ کی جنڈوڑا برادری سے ہے، جو تاریخی طور پر ہاتھ سے چکی چلانے اور آٹا پیسنے کے پیشے سے وابستہ رہی ہے۔
کھیم چند کے مطابق ان کی برادری میں تعلیم کو کبھی ترجیح نہیں دی جاتی تھی، مگر ان کے والد نے روایت توڑتے ہوئے پرائمری اسکول ٹیچر بن کر نئی راہ دکھائی۔
کھیم نے ابتدائی تعلیم سرکاری اداروں سے حاصل کی اور بعد ازاں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور سے گریجویشن کے بعد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ماسٹرز کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے والدہ نے اپنے زیورات فروخت کیے جبکہ والد نے نجی بینکوں سے قرض لیا۔
کھیم چند پہلے بھی کئی سرکاری امتحانات پاس کر چکے تھے، لیکن ان کا اصل خواب پولیس سروس میں جانا تھا، جو اب پورا ہو چکا ہے۔

جیون ریباری: گاؤں سے گردوارے تک کا سفر
بدین کے ایک چھوٹے قصبے سے تعلق رکھنے والے جیون ریباری کا سفر بھی مشکلات سے بھرپور رہا۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور سی ایس ایس کی تیاری کے لیے لاہور منتقل ہوئے۔
پہلی کوشش میں ناکامی کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ مالی مشکلات اس حد تک بڑھ گئیں کہ رہائش کا مسئلہ پیدا ہوگیا، جس پر لاہور کے ایک سکھ گردوارے نے انہیں پناہ دی، جہاں انہیں رہائش اور لنگر کی سہولت فراہم کی گئی۔
بعد ازاں انہوں نے سی ایس ایس اسپیشل امتحان میں کامیابی حاصل کی، مگر ان کا اصل ہدف پولیس سروس تھا، جو انہوں نے اگلے امتحان میں حاصل کر لیا۔
جنرل میرٹ پر کامیابی
جیون ریباری نے واضح کیا کہ انہوں نے اقلیتی کوٹے کے بجائے جنرل میرٹ پر مقابلہ کیا۔
ان کے مطابق وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ان کی برادری کے نوجوان بھی ملک کے بہترین تعلیمی اداروں سے آنے والے امیدواروں کے برابر صلاحیت رکھتے ہیں۔
پولیس سروس کا انتخاب کیوں؟
دونوں نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس سروس کا انتخاب شعوری طور پر کیا۔
جیون کے مطابق دیہی سندھ میں امن و امان ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہ اس شعبے میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔
کھیم چند کا کہنا ہے کہ وہ اپنی برادری کے نوجوانوں کے لیے مثال بننا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی بڑے خواب دیکھ سکیں۔
لائبریری بنی کامیابی کی ساتھی
دونوں امیدوار اپنی کامیابی کا بڑا کریڈٹ مسلسل مطالعے اور لائبریریوں میں طویل گھنٹوں کی محنت کو دیتے ہیں۔
کھیم چند نے بتایا کہ وہ اکثر گھر والوں سے کہتے تھے کہ کھانا بھی لائبریری پہنچا دیا جائے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔
اقلیتوں کے لیے امید کی نئی کرن
پاکستان میں اقلیتی برادریوں کی اعلیٰ سرکاری اداروں میں نمائندگی محدود رہی ہے، ایسے میں جیون ریباری اور کھیم چند جنڈوڑا کی کامیابی نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پوری اقلیتی برادری کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال بن گئی ہے۔
مزید پڑھئِے

