اپ ڈیٹ
لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی اپیل پر سیشن کورٹ کے اُس فیصلے کو جزوی طور پر معطل کر دیا ہے جس کے تحت انہیں گلوکار علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا۔
پیر کے روز جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے علی ظفر کو نوٹس جاری کیا اور میشا شفیع کی اپیل قابلِ سماعت قرار دی، تاہم عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو مکمل طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ ماتحت عدالت کی جانب سے میشا شفیع کو علی ظفر پر دوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات دہرانے سے روکنے کا حکم برقرار رہے گا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی فرد کو ایسے الزامات دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب تک قانونی کارروائی مکمل نہ ہو جائے۔
مقدمہ کا گزشتہ روز اندراج
لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے گلوکار علی ظفر کے حق میں سیشن عدالت کے دیے گئے 50 لاکھ روپے ہرجانے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
رجسٹرار آفس کے مطابق اپیل پر سماعت آج جسٹس احمد ندیم ارشد کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ کرے گا۔

میشا شفیع کے وکیل کا موقف
میشا شفیع نے اپنے وکیل ثاقب جیلانی کے ذریعے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سیشن عدالت نے حقائق کا مکمل اور درست جائزہ لیے بغیر فیصلہ سنایا۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ قرار دیا کہ میشا شفیع اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہیں، تاہم اگر الزامات کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر مسترد کیا گیا تو دوسری جانب علی ظفر کی جانب سے بھی اپنی بے گناہی مکمل طور پر ثابت نہیں کی گئی۔
درخواست گزار نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اسی معاملے پر انہوں نے صوبائی محتسب سے بھی رجوع کیا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے حتمی فیصلہ آنے تک ہرجانے کے دعوے کو حتمی شکل نہیں دی جا سکتی۔
میشا شفیع نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھئِں


