سپریم کورٹ آف پاکستان نے کچے کے بدنام ڈاکو گروہ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو سمیت تین مجرمان کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی چھ، چھ مرتبہ پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ اس نوعیت کے سنگین جرائم کو ذاتی دشمنی یا عام فوجداری مقدمات کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔
دورانِ سماعت جسٹس صلاح الدین پہنور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹو گینگ نے ایک عرصے تک اپنے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم رکھی، یہاں تک کہ ان کی سرگرمیوں کے باعث بعض علاقوں میں ریاستی عملداری شدید متاثر ہوئی۔
چھوٹو گینگ کون ہے؟
غلام رسول، جو “چھوٹو” کے نام سے مشہور ہے، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دریائی کچے کے علاقوں میں سرگرم ایک بدنام ڈاکو اور جرائم پیشہ گروہ کا سربراہ رہا ہے۔ اس کا گینگ عام طور پر “چھوٹو گینگ” کہلاتا ہے، جو خاص طور پر دریائے سندھ کے کچے کے علاقوں، خصوصاً راجن پور اور رحیم یار خان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم رہا۔
ملزمان اور پراسیکیوشن کا موقف
ملزمان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں قانونی خامیاں موجود ہیں، خاص طور پر ایف آئی آر میں ملزمان کے ناموں کے ساتھ ان کے عرفی نام درج کیے جانے پر سوال اٹھایا گیا۔ وکیل نے استفسار کیا کہ پولیس کو ان عرفی ناموں کا علم کیسے ہوا۔
اس کے جواب میں پنجاب حکومت کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کا مجرمانہ ریکارڈ پہلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس موجود تھا، جس کی بنیاد پر ان کی شناخت کی گئی۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ کارروائی کے دوران گینگ نے 24 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا تھا۔ حکومتی وکیل کے مطابق مقابلے کے دوران جب اہلکاروں کا اسلحہ اور گولہ بارود ختم ہوا تو انہیں قابو کر کے اغوا کر لیا گیا۔
دفاعی وکیل نے اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار اپنی مرضی سے کشتی کے ذریعے واپس آئے تھے اور انہیں جسمانی نقصان نہیں پہنچا تھا۔
مذید پڑھئِے
نکاح نامے میں نئے کالم سےحق مہر کی جائیداد کی ملکیت ظاہر کر نے کا حکم – urdureport.com
معرکۂ حق دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔فیلڈ مارشل – urdureport.com
اس دلیل پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر اہلکار اغوا نہیں ہوئے تھے تو کیا وہ وہاں تفریح کے لیے گئے تھے۔
تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر دو ملزمان کی اپیلیں خارج کر دیں اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت سزاؤں تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے غلام رسول عرف چھوٹو اور دیگر دو ملزمان کی اپیلیں خارج کر دیں اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی چھ چھ بار سزائے موت سزاؤں کو برقرار رکھا۔


