وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری Karoline Leavitt کی دوسری اولاد کی پیدائش پر مبارکباد کے ساتھ ایران کی جانب سے ایک غیر معمولی سفارتی ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں فروری میں ایرانی شہر مناب کے اسکول پر ہونے والے حملے کا حوالہ دے کر امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
28 سالہ کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی نومولود بیٹی ویویانا کی پیدائش کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ یکم مئی کو پیدا ہونے والی ان کی بیٹی مکمل طور پر صحت مند ہے اور خاندان کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ان کی بیٹی، جسے گھر میں "ویوی” کہا جا رہا ہے، کی آمد نے خاندان کی خوشیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ان کے بڑے بیٹے نے بھی اپنی نئی بہن کو خوش دلی سے قبول کیا ہے۔
تاہم اس اعلان کے بعد آرمینیا میں قائم Embassy of Iran in Armenia نے ایکس پر مبارکباد کے ساتھ ایک سخت پیغام جاری کیا۔
ایرانی سفارتخانے کا پیغام
ایرانی سفارتخانے نے لکھا کہ بچے دنیا بھر میں یکساں طور پر معصوم ہوتے ہیں، اور مناب کے اسکول میں ہلاک ہونے والے بچے بھی اتنے ہی بے گناہ تھے۔ پیغام میں کہا گیا کہ جب لیویٹ اپنی نومولود بیٹی کو گلے لگائیں تو انہیں ان بچوں کے اہل خانہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو اس حملے میں جان سے گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری کو مناب کے ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے حملے میں درجنوں بچے اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کی ذمہ داری امریکی کارروائی پر عائد کی تھی۔
امریکہ کا موقف
دوسری جانب امریکی حکام مسلسل یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ امریکا شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتا۔ مارچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور امریکا کی پالیسی شہری اہداف پر حملوں کی اجازت نہیں دیتی۔
مذید پڑھئِں
ایران میں اسکول پر حملہ امریکی فوج نے کیا تھا۔نیو یارک ٹائمز کی تحقیقات میں انکشاف – urdureport.com
امریکی حملے میں 168 کمسن شہید طالبات کی نماز جنازہ لاکھوں افراد شریک – urdureport.com
امریکی میڈیا رپورٹس میں بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ابتدائی فوجی تحقیقات میں ایک امریکی میزائل کے ہدف سے انحراف کے شواہد ملے تھے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ امریکی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ معاملہ ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات اور حالیہ فوجی تناؤ کے پس منظر میں سفارتی بیانات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔


