کینیڈا کی مسلح افواج ایک بڑے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ کئی دہائیوں تک دفاعی اخراجات اور فوجی استعداد کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنے والے کینیڈا نے اب اپنی فوجی قوت بڑھانے کے لیے تیز رفتار اقدامات شروع کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں فوج میں بھرتیوں کی شرح گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
صرف چند سال قبل کینیڈا Canada کی فوج کو افرادی قوت کی شدید کمی، پرانے نظام اور محدود وسائل جیسے مسائل درپیش تھے۔ سابق حکام نے تو یہاں تک خبردار کیا تھا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو فوجی صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ صدر ٹرمپ کے بیانات اور عالمی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی کشیدگی نے رجحان بدل دیا
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتے تنازعات، خصوصاً Russian invasion of Ukraine کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے نوجوانوں میں فوج میں شمولیت کا رجحان بڑھایا ہے۔ سکیورٹی خدشات اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی نے کینیڈا کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں بدلتے حالات نے نوجوانوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ قومی دفاع میں کردار ادا کرنا پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے بیان نے قوم پرستی کو ابھارا
امریکی صدر Donald Trump کے اس متنازع بیان، جس میں انہوں نے کینیڈا کو ’51ویں ریاست‘ قرار دیا، نے بھی کینیڈا میں قوم پرستانہ جذبات کو ہوا دی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کو کئی کینیڈین شہریوں نے اپنی خودمختاری کے لیے ایک علامتی خطرہ سمجھا، جس کے بعد فوجی خدمات میں دلچسپی بڑھی۔
نئی حکومت کی دفاعی ترجیحات
وزیراعظم مارک کارنی Mark Carney کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد فوجی شعبے کو اولین ترجیح بنایا۔ حکومت نے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے جدید ہتھیاروں کی خریداری، فوجی اڈوں کی اپ گریڈیشن اور آرکٹک خطے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا نے پہلی بار 1980 کی دہائی کے بعد دفاع پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد خرچ کرنے کا نیٹو ہدف حاصل کر لیا ہے۔ مزید یہ کہ 2035 تک اس شرح کو 5 فیصد تک لے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
نوجوانوں کے لیے پرکشش مواقع
بھرتیوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ نوجوانوں میں بے روزگاری بھی بتائی جا رہی ہے۔ بہتر تنخواہوں، ملازمت کے تحفظ اور کیریئر کے واضح راستے نے نوجوانوں کو فوج کی طرف راغب کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے اور مراعات میں بہتری نے بھی اس رجحان کو مضبوط کیا۔
بھرتی کے نظام میں بڑی اصلاحات
کینیڈین فوج نے بھرتی کے پیچیدہ اور سست عمل کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ درخواستوں کی آن لائن وصولی، دستاویزات کی الیکٹرانک تصدیق اور غیر ضروری کاغذی کارروائی کم کیے جانے سے امیدواروں کے لیے عمل پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
اسی پالیسی کے تحت مستقل رہائش رکھنے والے غیر ملکی شہریوں کے لیے بھی فوج میں شمولیت کے دروازے کھولے گئے، جس کے بعد نئی بھرتیوں میں قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا۔
ریکارڈ تعداد میں نئی بھرتیاں
گزشتہ مالی سال کے دوران کینیڈین مسلح افواج میں 7 ہزار سے زائد نئے اہلکار شامل ہوئے، جو تین دہائیوں کی بلند ترین تعداد ہے۔ حکام کے مطابق فوج میں شامل ہونے کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئی، جبکہ تصدیق شدہ درخواستوں میں بھی سال بہ سال تقریباً دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چیلنجز اب بھی موجود
اگرچہ یہ پیش رفت نمایاں ہے، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو اپنی فوجی صلاحیت کو نیٹو کے بڑے اتحادیوں کے برابر لانے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔ محدود آپریشنل استعداد اور جدید سازوسامان کی کمی جیسے مسائل فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق حقیقی نتائج سامنے آنے میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں، لیکن حالیہ اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ کینیڈا اب اپنی دفاعی کمزوریوں کو سنجیدگی سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئِے


