بھارت کی سپریم کورٹ میں مذہبی آزادی اور مذہبی اداروں کے داخلی معاملات سے متعلق ایک نہایت اہم آئینی سماعت شروع ہونے جا رہی ہے، جس میں آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی تشریح کے لیے سات بنیادی سوالات پر غور کیا جائے گا۔ یہ سماعت اس بات کا تعین کرے گی کہ عدالت مذہبی معاملات میں کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے۔
یہ معاملہ ابتدا میں ریاست کیرالہ کے مشہور سبریمالا مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی کے مقدمے سے شروع ہوا تھا، مگر بعد میں اس میں مساجد میں خواتین کے داخلے اور نماز کی ادائیگی سے متعلق درخواستیں بھی شامل کر لی گئی، چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں نو رکنی آئینی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔
درخواست گزار کا موقف
بی بی سی کی ایک سٹوری کے مطابق اس تناظر میں پونے کی رہائشی یاسمین زبیر پیرزادہ نے 2019 میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ خواتین کو مساجد میں مردوں کی طرح نماز ادا کرنے، اگلی صفوں میں کھڑے ہونے، امام کو براہِ راست دیکھنے اور مسجد میں ایک ہی دروازے سے داخلے کی اجازت دی جائے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مرد و خواتین ایک ہی مسجد میں بغیر علیحدہ انتظام کے نماز ادا کر سکیں۔
اس درخواست کے جواب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسلام خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت دیتا ہے، تاہم باجماعت نماز کے لیے مخصوص ضوابط اور انتظامی اصول موجود ہیں۔ بورڈ کے مطابق یہ انتظامات آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی اداروں کے داخلی نظم و نسق کے دائرے میں آتے ہیں۔
اسلامی تاریخ اور متعدد مذہبی حوالوں کے مطابق خواتین کو مساجد میں جانے اور نماز ادا کرنے کی اجازت رہی ہے۔ حدیث اور فقہی روایات میں اس کی مثالیں ملتی ہیں، جبکہ کئی اسلامی ادوار میں خواتین نے مساجد میں تعلیم و تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔
علما کا موقف
بھارت کے کئی علماء کا کہنا ہے کہ خواتین کے مسجد میں داخلے پر کوئی شرعی پابندی نہیں، البتہ پردے، الگ جگہ اور سہولتوں کے انتظام کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ بعض سماجی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ عملی طور پر خواتین کو اکثر مساجد میں مساوی رسائی حاصل نہیں۔
سپریم کورٹ اس کیس میں سات اہم آئینی سوالات پر غور کرے گی:
1۔ آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کی حدود کیا ہیں؟
2۔ آرٹیکل 25 کے انفرادی حقوق اور آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی فرقوں کے حقوق میں کیا تعلق ہے؟
3۔ کیا آرٹیکل 26 کے حقوق آئین کے دیگر بنیادی حقوق کے تابع ہیں؟
4۔ آرٹیکل 25 اور 26 میں “اخلاقیات” سے کیا مراد ہے، اور کیا اس میں آئینی اخلاقیات شامل ہیں؟
5۔ مذہبی اعمال پر عدالتی نظرثانی کی حدود کیا ہیں؟
6۔ آرٹیکل 25(2)(ب) میں استعمال ہونے والی اصطلاح “ہندوؤں کے حصے” کا قانونی مفہوم کیا ہے؟
7۔ کیا کوئی غیر متعلق شخص مفادِ عامہ کی درخواست کے ذریعے کسی مذہبی عمل کو عدالت میں چیلنج کر سکتا ہے؟
اس سماعت کا فیصلہ نہ صرف سبریمالا مندر اور مساجد میں خواتین کے داخلے کے معاملے پر اثر انداز ہوگا بلکہ بھارت میں مذہبی آزادی، صنفی مساوات اور عدالتی اختیار کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئیے


