چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم سفارتی سرگرمیوں کا آغاز آج سے ہو رہا ہے، جہاں دونوں رہنما تجارت، اقتصادی تعلقات اور دوطرفہ تعاون پر بات چیت کریں گے۔
صدر ٹرمپ Donald Trump اگرچہ چین پہنچ چکے ہیں، تاہم دورے کی مرکزی سرگرمیاں جمعرات اور جمعے کو طے کی گئی ہیں۔ جمعرات کے روز صدر شی جن پنگ Xi Jinping بیجنگ کے معروف سرکاری مقام Great Hall of the People میں امریکی صدر کا باضابطہ استقبال کریں گے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم مذاکرات ہوں گے جبکہ شام میں ایک سرکاری عشائیہ بھی رکھا گیا ہے۔
جمعے کے روز صدر ٹرمپ کو بیجنگ کے حساس حکومتی کمپاؤنڈ Zhongnanhai مدعو کیا جائے گا، جہاں صدر شی جن پنگ کے ساتھ دوستانہ ملاقات اور مصافحہ ہوگا۔ غیر ملکی رہنماؤں کو اس مقام پر مدعو کرنا چین میں خصوصی اہمیت اور قریبی تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان چائے پر ایک اور دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے، جس کے بعد ظہرانہ ہوگا جبکہ دورے کے اختتام پر صدر ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر الوداع کیا جائے گا۔
اہم کاروباری شخصیات کی چین آمد
دوسری جانب امریکہ کی بڑی کاروباری شخصیات بھی صدر ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ پہنچی ہیں۔ ان میں Apple، Tesla اور NVIDIA کے اعلیٰ حکام شامل ہیں، جس سے اس دورے کی معاشی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئِں
ایران کی امریکہ کو ایٹم بم تیاری کے لیے یورینیم افزودگی کی دھمکی – urdureport.com
صدر ٹرمپ کا بیان اور کینیڈا کی فوج میں دہائیوں بعد ریکارڈ بھرتیاں – urdureport.com
امریکہ اور چین کے درمیان حالیہ برسوں میں تجارتی کشیدگی، اضافی محصولات اور مختلف پابندیوں کے باعث دوطرفہ تجارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 414 ارب ڈالر سے زائد رہا، جو 2022 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
صدر ٹرمپ کا چیلنج
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج تجارتی خسارہ ہے، کیونکہ امریکہ چین سے کہیں زیادہ اشیا درآمد کرتا ہے جبکہ امریکی برآمدات نسبتاً کم ہیں۔ واشنگٹن اس فرق کو کم کرنے کے لیے چین کو مزید امریکی مصنوعات فروخت کرنے پر زور دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان نئے تجارتی معاہدے طے پاتے ہیں تو امریکی سویا بین کے کاشت کاروں، گوشت کی صنعت اور طیارہ ساز کمپنی Boeing کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔


