Sherry Rehman کی جانب سے پیش کیے گئے ’’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پروہیبیشن آف پلاسٹک بک کورز بل 2026‘‘ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری ملنے کے بعد فوری طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ بل کی منظوری کو ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بل کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں کتابوں پر استعمال ہونے والے پلاسٹک کورز پر پابندی عائد ہوگی تاکہ سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔ قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں پر پہلی مرتبہ ہی پچاس ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
پلاسٹک آلودگی ایک سنگین مسئلہ
بل کی محرک شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک آلودگی دنیا بھر کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور بعض پلاسٹک مواد کو قدرتی طور پر ختم ہونے میں سینکڑوں بلکہ ہزار سال تک لگ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پلاسٹک فضلہ دریاؤں، ندی نالوں، ساحلی علاقوں، لینڈ فل سائٹس اور شہری ماحول کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔
مذید پڑھئِے
انمول پنکی کے خریدار کون؟سینٹ نے اے این ایف سے تفصیل مانگ لی – urdureport.com
انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر کروڑوں ٹن پلاسٹک کچرا پیدا ہو چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی ہر سال بڑی مقدار میں پلاسٹک فضلہ جمع ہوتا ہے، مگر اس کا بہت کم حصہ ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ عوام میں ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینے کا سبب بھی بنے گا۔
پلاسٹک کور کے خلاف اقدامات
شیری رحمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ پلاسٹک کورز اور دیگر غیر ضروری پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں اور خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں۔ انہوں نے بڑے تجارتی مراکز اور دکانداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ماحول دوست متبادل اختیار کریں کیونکہ دنیا کے مختلف ممالک میں سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


