امریکہ میں بدنام زمانہ جنسی جرائم کے مجرم Jeffrey Epstein کے خلاف سامنے آنے والی ایک نئی گواہی نے ایک بار پھر اس کیس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ازبکستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، جنہیں رپورٹ میں روزا کے نام سے ظاہر کیا گیا، نے الزام عائد کیا ہے کہ ایپسٹین نے انہیں تین برس تک مسلسل جنسی تشدد اور استحصال کا نشانہ بنایا۔
روزا نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی سماعت میں اپنی داستان سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانی میں بہتر مستقبل اور ماڈلنگ کیریئر کے خواب لے کر امریکہ پہنچیں، مگر وہاں انہیں ایک ایسے نیٹ ورک کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کی کمزور معاشی صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔
خاتون کے مطابق ان کی ملاقات ماڈلنگ ایجنٹ Jean-Luc Brunel سے ہوئی، جس نے انہیں شاندار ماڈلنگ مستقبل کے خواب دکھائے۔ بعد ازاں جولائی 2009 میں فلوریڈا میں ایپسٹین سے متعارف کروایا گیا، جہاں اس وقت ایپسٹین ایک مقدمے میں گھر پر نظر بند تھا۔
ایپسٹین نے کیسے زیادتی کا نشانہ بنایا؟
روزا کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ایپسٹین نے مالی مدد اور ملازمت کی پیشکش کر کے اعتماد حاصل کیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہیں جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ روزا نے سماعت کے دوران بتایا کہ ’ایک دن اُس (ایپسٹین) کے مساج کرنے والی خاتون نے مجھے اُس کے کمرے میں بلایا، جہاں جیفری نے پہلی بار مجھے جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔ اور اس کے بعد کے تین سالوں تک میرے ساتھ مسلسل ریپ کیا جاتا رہا‘پہلی بار ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، اور پھر یہ سلسلہ کئی برس جاری رہا۔
یہ بھی پڑھئِے
ایپسٹین فائلز:ٹرمپ عمران خان سمیت کن کن عالمی رہنماوں کے نام سامنے آئے – urdureport.com
غلاف کعبہ کے ٹکڑے جنسی مجرم جعفری ایپسٹین تک کیسے پہنچے؟ – urdureport.com
سماعت کے دوران روزا جذباتی دکھائی دیں اور انہوں نے کہا کہ غربت اور غیر مستحکم حالات نے انہیں ایسے لوگوں کے لیے آسان شکار بنا دیا تھا۔ ان کے مطابق وہ طویل عرصے تک خوف اور بے بسی کا شکار رہیں اور انہیں لگتا تھا کہ طاقتور لوگوں کے خلاف انصاف حاصل کرنا ممکن نہیں۔
ویسٹ پام بیچ میں سماعت
یہ سماعت امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں منعقد کی گئی، جہاں ایپسٹین کے خلاف ابتدائی تحقیقات منظرِ عام پر آئی تھیں۔ قانون سازوں نے اس موقع پر اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ کس طرح ایپسٹین برسوں تک قانونی کارروائی سے بچتا رہا اور متاثرین کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سماعت میں ایک اور متاثرہ خاتون Maria Farmer نے بھی ریکارڈ شدہ بیان میں الزام لگایا کہ انہوں نے کئی برس پہلے حکام کو شکایات دی تھیں، مگر مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اب مکمل سچ عوام کے سامنے لانا چاہیے۔
یاد رہے کہ Jeffrey Epstein کو 2019 میں جنسی استحصال اور انسانی سمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا، تاہم وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد بھی ان کے نیٹ ورک، طاقتور شخصیات سے روابط اور متاثرین کے الزامات عالمی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں
مذید پڑھئِں


