کراچی میں انمول پنکی ڈان کے منظم نیٹ ورک کے معاملے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔
کراچی پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کو ضلع وسطی پولیس اور ایک حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ مختلف مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھی اور شہر میں کوکین سمیت دیگر مہلک منشیات کی مبینہ سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ سمجھی جاتی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز، نشہ آور مواد، اسلحہ اور گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ ڈیفنس، کلفٹن اور دیگر پوش علاقوں میں آن لائن آرڈرز پر رائیڈرز کے ذریعے منشیات سپلائی کرتی تھی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے خواتین رائیڈرز بھی استعمال کیے جاتے تھے۔
پنکی ڈان کے خریدار
پولیس کے مطابق ملزمہ کے خریداروں میں طلبہ و طالبات کے ساتھ بعض بااثر شخصیات بھی شامل تھیں، جبکہ روزانہ لاکھوں روپے کی منشیات فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت مزید متنازع ہوا جب ملزمہ کو عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ویڈیو میں ملزمہ ماسک اور دھوپ کا چشمہ پہنے عدالت میں داخل ہوتی دکھائی دی، جبکہ اس کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی اور ہتھکڑی موجود نہیں تھی۔
واقعے پر شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے شفاف انکوائری کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملزم کو خصوصی پروٹوکول دینا ناقابل قبول ہے اور اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کی سربراہی ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سینٹ داخلہ کمیٹی کا نوٹس
دوسری جانب اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں بھی اس کیس پر بحث ہوئی۔ کمیٹی چیئرمین فیصل سلیم نے کہا کہ ڈی جی اے این ایف وضاحت کریں کہ انمول عرف پنکی کس کس کو منشیات فراہم کرتی رہی۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے عدالت میں ملزمہ کی پیشی کے انداز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیا۔
پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر دس مقدمات درج ہیں، جن میں منشیات فروشی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور ایک نوجوان کی مبینہ ہلاکت سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔
ایک ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے ملزمہ کے فلیٹ پر چھاپے کے دوران کوکین، منشیات تیار کرنے والے کیمیکلز، نائن ایم ایم اور گلوک پستول، میگزینز اور مخصوص برانڈنگ والے ڈبے برآمد کیے، جن پر ’’کوئین میڈم پنکی ڈان، نام ہی کافی ہے‘‘ درج تھا۔
مذید پڑھئیں
انمول پنکی کی بغیر ہتھکڑی پیشہ کا سخت نوٹس،جوڈیشل ریمانڈ پر – urdureport.com
خواتین کو مسجد میں اگلی صف میں نماز پڑھنے کی اجازت پرسپریم کورٹ میں بحث – urdureport.com
پولیس کا کہنا ہے کہ برآمدہ منشیات کا وزن 1540 گرام جبکہ دیگر خام مال کا وزن تقریباً 6970 گرام ہے۔
قتل کا مقدمہ
ملزمہ کے خلاف ایک قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ لیاری کے علاقے بغدادی میں ایک نوجوان کی لاش کے قریب سے ملنے والی ایک سنہری ڈبیہ پر بھی مبینہ طور پر پنکی کی برانڈنگ درج تھی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نوجوان کی موت نشہ آور مواد کے استعمال سے ہوئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے بدھ کو ملزمہ کو منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور نوجوان کو مبینہ طور پر نشہ فراہم کرنے کے مقدمات میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔


