ھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 2027 کا ون ڈے ورلڈ کپ کھیلنے کے خواہشمند ہیں، تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے بار بار خود کو ثابت کرنے کا ماحول انھیں قبول نہیں۔
آئی پی ایل فرنچائز Royal Challengers Bengaluru کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ وہ اپنی کرکٹ اور فٹنس کے حوالے سے اب بھی مکمل سنجیدہ ہیں، لیکن اگر ہر وقت ان کی افادیت پر سوالات اٹھتے رہیں تو پھر ایسے ماحول میں کھیلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
37 سالہ بیٹر اس وقت صرف ون ڈے فارمیٹ میں بھارتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ 2024 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل جبکہ 2025 میں ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔
کوہلی نے کہا کہ ان کی روزمرہ زندگی اب بھی ایک پروفیشنل ایتھلیٹ جیسی ہے۔ وہ باقاعدگی سے ٹریننگ کرتے ہیں، خوراک کا خیال رکھتے ہیں اور خود کو مکمل فٹ رکھتے ہیں، اسی لیے اگر موقع ملا تو وہ اگلا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے تیار ہوں گے۔
کوہلی کا اہم بیان
انھوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی کھلاڑی اور ٹیم کے درمیان اعتماد دو طرفہ ہونا چاہیے۔ اگر ٹیم مینجمنٹ محسوس کرتی ہے کہ وہ اب بھی بھارت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں تو وہ ضرور کھیلیں گے، لیکن اگر ہر مرحلے پر ان کی جگہ پر سوال اٹھایا جائے تو وہ خود پیچھے ہٹ جائیں گے۔
آئی پی ایل 2026 میں کوہلی شاندار فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ 12 میچوں میں 484 رنز بنا چکے ہیں اور ٹورنامنٹ کے نمایاں بیٹرز میں شامل ہیں۔
بھارتی کرکٹ حلقوں میں اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ 2027 کے ورلڈ کپ میں تجربہ کار کھلاڑیوں Rohit Sharma اور کوہلی کو برقرار رکھا جائے یا نئی نسل کو آگے لایا جائے۔ تاہم کوہلی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی مکمل جذبے کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور میدان میں کسی بھی نوجوان کھلاڑی جتنی محنت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
کوہلی کا ریکارڈ
ون ڈے کرکٹ میں کوہلی 311 میچوں میں تقریباً 15 ہزار رنز بنا چکے ہیں، جن میں 54 سنچریاں شامل ہیں۔ دباؤ میں غیرمعمولی کارکردگی کے باعث انھیں “چیز ماسٹر” بھی کہا جاتا ہے۔
بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ Gautam Gambhir نے ابھی تک کوہلی یا روہت شرما کے مستقبل پر کوئی حتمی بیان نہیں دیا،
آئندہ ون ڈے ورلڈ کپ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوہلی جولائی میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں دوبارہ بھارتی ٹیم کی نمائندگی کرتے دکھائی دیں گے۔


