کراچی میں گرفتار کوکین کوئین کے ایک مقدمے میں ان کے جسمانی ریمانڈ میں دو روز کی توسیع کر دی گئی جبکہ متعدد دیگر مقدمات میں انھیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
لیاری کے علاقے بغدادی میں ایک نامعلوم نوجوان کی لاش ملنے کے بعد درج قتل کے مقدمے میں پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متوفی کی ہلاکت مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کی جانب سے فراہم کردہ نشہ آور مواد کے باعث ہوئی۔ مقدمے کے مدعی محمد شیروز کے مطابق سات مئی کو حاجی پیر محمد روڈ کے قریب ایک نوجوان کی لاش ملی تھی، جس کی تلاشی کے دوران ایک سنہری ڈبیہ برآمد ہوئی جس پر “کوئین میڈم پنکی ڈان” درج تھا۔
یہ پنکی کی بنی گالا والی کون سی سٹوری ہے ؟ pic.twitter.com/Xro8AX6eb6
— Urdu Report (@UrduReportpk) May 16, 2026
انمول پنکی کے الزامات
عدالت میں پیشی کے دوران انمول عرف پنکی نے الزام لگایا کہ انھیں 22 روز سے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا اور لاہور سے کراچی منتقلی کے دوران ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دورانِ حراست ان پر تشدد کیا جا رہا ہے اور یہ سب ان کے سابق شوہر کے کہنے پر ہو رہا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس اہلکاروں نے ملزمہ کو دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا جبکہ وہ بار بار کہتی رہیں کہ انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے۔
مذید پڑھئیے
مستونگ کسٹم گودام میں آگ:اربوں جل گئے – urdureport.com
سستے ڈالر یا ہنی ٹریپ ! اسلام آباد کا نوجوان کچے کے ڈاکووں کے ہتھے کیسے لگا – urdureport.com
تفتیشی افسر مقبول مہر نے عدالت کو بتایا کہ اب تک سات افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ملزمہ کی نشاندہی پر مختلف مقامات سے منشیات برآمد کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملزمہ کے موبائل فون سے منشیات کی تیاری سے متعلق ویڈیوز بھی ملی ہیں اور وہ ایک مخصوص برانڈ کے نام سے نشہ آور مواد فروخت کرتی تھیں۔
پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ ملزمہ مختلف شہروں میں سرگرم ایک نیٹ ورک چلا رہی تھیں جبکہ بعض غیرملکی افراد اور خواتین بھی اس گروہ کا حصہ تھیں۔
پنکی کے وکیل کو موقف
دوسری جانب ملزمہ کے وکیل میر ہدایت اللہ نے تمام مقدمات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ کو لاہور سے گرفتار کر کے کراچی لایا گیا اور جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق انمول گزشتہ بیس برس سے کراچی میں مقیم نہیں اور نہ ہی ان کے قبضے سے کوئی منشیات برآمد ہوئی۔
وکیل نے الزام لگایا کہ پولیس نے دورانِ حراست ان کی مؤکلہ کی ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انمول پر بعض سیاسی شخصیات کے نام لینے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔
بعد ازاں ملیر کورٹ میں منشیات برآمدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور 14 روز میں چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔
کراچی پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی، سچل، درخشاں اور گزری تھانوں سمیت مختلف علاقوں میں قتل اور منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں 2021، 2022 اور 2025 کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے۔
انمول پنکی کا شور شرابہ
ملزمہ انمول عرف پنکی نے پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے۔انمول پنکی پولیس حراست میں یہ کہتی رہی کہ بنی گالا کے ایک شخص کا نام لینے کے لےدباو ڈالا جا رہا ہے۔
پولیس کو کامیابی
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کی نگرانی میں انمول عرف پنکی سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔
اسد رضا کے مطابق پنکی کیس میں پولیس کو ایک اور اہم کامیابی مل گئی ہے، منشیات فروش خاتون کے ایک اور اکاؤنٹنٹ کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے مزید کہا کہ دونوں اکاؤنٹنٹس کے 6 اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔


