اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین سے لاپتہ ہونے والے نوجوان نورالدین کے کیس نے اُس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب پولیس کو اُن کے موبائل فون کی آخری لوکیشن سندھ کے کچے کے علاقے سے موصول ہوئی۔یہ۔بات ایک معمہ بن گئی کہ اسلام آباد کا نوجوان اغوا ہوکر کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے قبضے میں کیسے پہنچ گیا۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں مسلح افراد نورالدین پر تشدد کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اُن کی رہائی کے بدلے پانچ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق 30 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی شب نورالدین اپنے دوستوں کے ساتھ تھے اور فجر کی نماز کے بعد اپنے فلیٹ سے روانہ ہوئے۔ کچھ دیر بعد اُن کا موبائل فون بند ہو گیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد انہوں نے اپنے ڈرائیور کو واٹس ایپ پر ایک لوکیشن بھیجی۔
ڈرائیور جب دی گئی جگہ پر پہنچا تو اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں سری نگر ہائی وے کے قریب نورالدین کی گاڑی کھڑی تھی، مگر وہ خود وہاں موجود نہیں تھے۔ کئی روز تک کوئی سراغ نہ ملنے پر ان کے بھائی سیف الدین کی درخواست پر تھانہ آبپارہ میں گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق 10 مئی کو نورالدین کا موبائل دوبارہ فعال ہوا اور اس کی لوکیشن سندھ کے کچے کے علاقے میں ٹریس ہوئی۔ اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے اے ایس پی کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔
تفتیش میں نیا پہلو
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں ’ہنی ٹریپ‘ یا مالی لالچ کا پہلو بھی زیرِ غور ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نورالدین ممکنہ طور پر کسی لالچ یا سودے کے سلسلے میں خود اس علاقے تک پہنچے۔
مغوی کے وکیل ایڈووکیٹ رفیق الدین نے بتایا کہ اغوا کار پانچ کروڑ روپے تاوان طلب کر رہے ہیں، تاہم اہلِ خانہ پولیس کے ساتھ مل کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ نورالدین مالی طور پر مشکلات کا شکار تھے۔
مذید پڑھئِے
شازیہ مری کو ڈانٹ: بلاول بھٹو تنقید کی زد میں،معافی کا مطالبہ – urdureport.com
وکیل کے مطابق نورالدین مائنز، منرلز، کرپٹو کرنسی اور فاریکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا کاروبار کرتے تھے اور مختلف افراد کی سرمایہ کاری بھی اُن کے پاس موجود تھی۔
سستے ڈالر کا چکر
دوسری جانب نورالدین کے ماموں رفیع اللہ کا کہنا ہے کہ اغوا سے کچھ روز قبل نورالدین قریبی افراد کو بتا رہے تھے کہ وہ ’سستے ڈالر‘ خریدنے جا رہے ہیں اور اسی سلسلے میں مصروف رہیں گے۔
اسلام آباد پولیس کے سابق افسر اور ریٹائرڈ ایس ایس پی فرحت کاظمی کے مطابق ایسے بیشتر واقعات میں متاثرہ افراد کو براہِ راست اغوا نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں کسی بڑے منافع یا سستے سودے کا لالچ دے کر خطرناک علاقوں تک بلایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سستے ڈالر‘، فوری منافع اور آن لائن سرمایہ کاری جیسے جھانسے اکثر شہریوں کو جرائم پیشہ گروہوں کے جال میں پھنسا دیتے ہیں، اس لیے حکومت کو اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے


