حیاتیاتی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سائنس دانوں نے مصنوعی طور پر تیار کیے گئے انڈوں سے 26 صحت مند چوزے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مستقبل میں مصنوعی رحم (Artificial Womb) کی تیاری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
مصنوعی انڈوں کا منفرد تجربہ
امریکی بایوٹیکنالوجی کمپنی Colossal Biosciences کے محققین نے اس تجربے کے لیے شفاف تھری ڈی پرنٹڈ مصنوعی انڈے تیار کیے، جنہیں قدرتی خول کے بغیر پرندوں کے جنین کی نشوونما کے لیے استعمال کیا گیا۔
ان مصنوعی انڈوں میں ایک خاص سلیکون جھلی نصب کی گئی تھی جو آکسیجن اور دیگر گیسوں کے تبادلے کو ممکن بناتی ہے۔ قدرتی خول سے حاصل ہونے والے کیلشیئم کی کمی پوری کرنے کے لیے محققین نے اضافی کیلشیئم بھی فراہم کیا، جس کے نتیجے میں جنین کی افزائش کامیابی سے مکمل ہوئی اور 26 چوزے صحت مند حالت میں پیدا ہوئے۔
معدومیت کے خطرے سے دوچار پرندوں کے لیے امید
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد نایاب اور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار پرندوں کی نسلوں کا تحفظ ہے۔ اسی سلسلے میں سائنس دان نیوزی لینڈ کے دیوہیکل اور اڑنے سے محروم پرندے Moa کی ممکنہ واپسی پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ یہ پرندہ تقریباً 12 فٹ بلند ہوتا تھا اور انتہائی بڑے انڈے دیتا تھا۔
مذید پڑھئِے
میٹا کے اے آئی سمارٹ گلاسز پرائیویسی تنازع، نجی اور برہنہ ویڈیوز بھی سامنے آگئیں – urdureport.com
میٹا نے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو ایک کر دیا،فیملی سنٹر سسٹم لانچ – urdureport.com
معدوم جانوروں کی بحالی کے منصوبے
مذکورہ کمپنی اس سے قبل بھی کئی معدوم جانوروں کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر چکی ہے۔ محققین Dire Wolf، Woolly Mammoth، Dodo اور Bluebuck جیسے معدوم جانوروں کی بحالی سے متعلق تحقیقی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
کمپنی کے چیف بائیولوجی افسر Andrew Pask کے مطابق مصنوعی انڈوں میں چوزوں کی افزائش اور ان کی حرکات کا مشاہدہ ایک غیرمعمولی تجربہ تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زندگی کو قدرتی رحم یا خول سے باہر بھی مخصوص حالات میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
سائنسی برادری میں اختلافِ رائے
اگرچہ اس کامیابی کو حیاتیاتی علوم میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض سائنس دان اس کے بارے میں محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بغیر خول والے انڈوں پر تحقیق کوئی بالکل نیا تصور نہیں، کیونکہ اس شعبے میں کئی دہائیوں سے کام جاری ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ تجربہ پہلے سے موجود تکنیکوں میں ایک قابلِ ذکر بہتری ضرور ہے، لیکن اسے مکمل طور پر انقلابی پیشرفت قرار دینا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مزید جانچ اور ترقی مستقبل میں حیاتیاتی تحقیق، نایاب انواع کے تحفظ اور تولیدی سائنس کے شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔


