قومی اسمبلی اور سینٹ کے بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کر لیے گئے ہیں، جبکہ اسی روز وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا جہاں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے 4 جون کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 17.1 ٹریلین روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ آئندہ سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں پٹرولیم لیوی
بجٹ تجاویز میں پیٹرولیم لیوی سے 1727 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1.1 ٹریلین روپے مختص کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7824 ارب روپے جبکہ دفاعی اخراجات کے لیے 2665 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 2768 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
سرکاری ملازمین کا مطالبہ
دوسری جانب بجٹ پیش ہونے سے قبل حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، تاہم سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
مذید پڑھئِے
آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات :پٹرولیم لیوی میں پھر اضافہ۔بجلی گیس مہنگی – urdureport.com
آئندہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو بڑا ریلیف، گاڑیاں سستی ہونے کا امکان – urdureport.com
سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو بجٹ سے ایک روز قبل وزارت خزانہ کے باہر اور بجٹ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق چارٹر آف ڈیمانڈز پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس مرتبہ بجٹ میں آٹو انڈسٹری کو ریلیف دءیے جانے کی توقع ہے۔


