امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک مجوزہ معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا اور تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، تاہم امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ سیچیوشن روم میں ایران کے بارئے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔
وائٹ ہاؤس خاموش
ایران کے حوالے سے قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے طویل سچویشن روم اجلاس کے کئی گھنٹے بعد بھی وائٹ ہاؤس نے یہ واضح نہیں کیا کہ صدر ٹرمپ نے کسی نتیجے پر پہنچ کر کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے شام تقریباً 6 بجے جاری کیے گئے بیان میں کہا:
"سچویشن روم کا اجلاس اختتام پذیر ہو گیا ہے اور تقریباً دو گھنٹے جاری رہا۔ صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں ہو اور ان کی مقرر کردہ ریڈ لائن (Red Lines) پر پورا اترتا ہو۔ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔”
مذید پڑھئِے
آبنائے ہرمز کی امریکہ ناکہ بندی ختم حتمی فیصلہ کروں گا،ٹرمپ کا اعلان – urdureport.com
امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر ابھی مزاکرات جاری ہیں ،سی این این – urdureport.com
ٹرمپ نے اجلاس کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد "حتمی فیصلہ” کرنا ہے، اور انہوں نے ان متعدد شرائط کا بھی ذکر کیا تھا جنہیں وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے میں ایران سے تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔
ممکنہ معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اپنے مشیروں کے ساتھ ملاقات کی، جہاں ایران کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدے پر غور کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اجلاس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ "حتمی فیصلہ” کرنے جا رہے ہیں، تاہم تاحال اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ کوئی فیصلہ کیا گیا ہے یا نہیں۔
تہران کا مؤقف
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (Memorandum of Understanding) ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اس بات کی بھی کوئی حتمی تصدیق نہیں ہوئی کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس دستاویز کی منظوری دی ہے۔


