ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے ایک ابتدائی مفاہمتی فریم ورک پر پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری تاحال امریکی صدر کی منظوری سے مشروط ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور یورینیم افزودگی سے متعلق حساس معاملات پر مذاکرات ابھی جاری ہیں، جس کے باعث معاہدہ ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
امریکی نائب صدر JD Vance نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے بعض نکات کی زبان اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صدر ٹرمپ Donald Trumpاس معاہدے کی منظوری کب دیں گے یا آیا دیں گے بھی یا نہیں۔
ان کے مطابق امریکا کو یقین ہے کہ ایران مذاکرات میں اب تک سنجیدگی اور نیک نیتی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تاہم جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم نکات اب بھی زیر بحث ہیں۔
رپورٹ کے اہم نکات
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کرنے اور بعض امریکی پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر مزید 60 روزہ مذاکرات بھی متوقع ہیں تاکہ پیچیدہ معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا نے مذاکرات سے واقف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کا متن ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا اور نہ ہی اسے باضابطہ منظوری ملی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے ثالثی کردار ادا کرنے والے Pakistan کو بھی کسی حتمی دستاویز سے آگاہ نہیں کیا۔
مذید پڑھئِے
ایران پر نئے امریکی حملے، معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت کے لیے ٹرمپ کا دباو – urdureport.com
ٹرمپ کے مسلم ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر پاکستان میں نئی بحث – urdureport.com
خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب چند بحری جہازوں کو وارننگ فائر کے ذریعے روکا گیا کیونکہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایرانی میڈیا نے جنوبی علاقوں سے بعض اہم اہداف کی جانب میزائل داغے جانے کی اطلاعات بھی دی ہیں، تاہم ان اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران کی زیر زمین تنصیبات
ادھر ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران زیر زمین تنصیبات میں موجود اپنے میزائل ذخائر تک دوبارہ رسائی حاصل کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق ایران بھاری مشینری کی مدد سے تباہ شدہ داخلی راستے دوبارہ بحال کرنے میں مصروف ہے، جس سے ان دعوؤں پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ایران کا میزائل نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔
امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کا انحصار صدر ٹرمپ کے فیصلے پر ہوگا اور واشنگٹن ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو امریکی مفادات کے خلاف ہو۔
انہوں نے Oman کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مسقط نے آبنائے ہرمز کے معاملے میں ایران کی کھل کر حمایت کی تو امریکا اقتصادی اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عمان گزشتہ کئی برسوں سے امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں میں اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی اور سخت بیانات کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔


