امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی شہر بندر عباس کے قریب نئے فضائی حملے کیے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک پر معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائیوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب چار ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے جبکہ بندر عباس میں ایک فوجی مقام کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہاں سے مبینہ طور پر پانچواں ڈرون لانچ کیے جانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد شہر کے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی “اپنے دفاع” میں ایک محتاط آپریشن کے تحت کی گئی۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی امریکہ نے جنوبی ایران میں میزائل اڈوں اور ان کشتیوں کو نشانہ بنایا تھا جن کے بارے میں امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ایران کی مذمت
ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگ بندی کی “سنگین خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ایک امریکی ڈرون مار گرایا جبکہ ایک جنگی طیارے اور دوسرے ڈرون پر بھی فائرنگ کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینا ایران کا “جائز اور قطعی حق” ہے۔
معاہدہ ابراہیمی کے لیے ٹرمپ کا دباو
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس کے دوران کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر عرب ممالک کو فوری طور پر معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا: “وہ ہم پر یہ احسان واجب رکھتے ہیں۔”
مذید پڑھئِے
کیا سعودی عرب پاکستان ابراہیمی منصوبے پر دستخط کرکے اسرا*ئیل کو تسیلم کریں گے؟ – urdureport.com
ٹرمپ کے مسلم ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر پاکستان میں نئی بحث – urdureport.com
اجلاس کے دوران ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے سوال کیا کہ آیا وہ متعلقہ ممالک کو معاہدے پر دستخط کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں، جس پر وٹکوف نے جواب دیا کہ امریکہ اس مقصد کے لیے بھرپور دباؤ ڈال رہا ہے۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی نوعیت بھی اس بات سے جڑی ہو سکتی ہے کہ مزید ممالک معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ صرف “زبردست معاہدہ” چاہتا ہے، ورنہ معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر موقف
آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال پر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ سمندری راستہ سب کے لیے کھلا رہے گا اور کوئی ملک اس پر کنٹرول حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے عمان کے بارے میں بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کا رویہ دیگر ممالک جیسا نہ ہوا تو “ہمیں اسے تباہ کرنا پڑے گا۔”
ادھر کویتی فوج نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ بیان میں شہریوں سے کہا گیا کہ دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں اور عوام حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔
ایران کا جوابی حملے
ایران کی جانب سے بھی تازہ موقف سامنے آیا ہے۔ ممبئی میں ایرانی قونصل خانے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ کے مطابق ایک امریکی آئل ٹینکر نے اپنا ریڈار بند کر کے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ کی اور جہاز کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
ایرانی حکام کا مزید کہنا ہے کہ امریکی فوج نے بندر عباس کے قریب ایک غیر آباد علاقے کو نشانہ بنایا اور دھماکوں کی آوازیں اسی کارروائی کا نتیجہ تھیں۔ ایران کے مطابق اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور سخت بیانات نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔


