مسجد الحرام میں حج سیزن کے دوران سعودی خواتین نے عازمینِ حج اور زائرین کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و نسق کی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
سعودی حکام کی جانب سے خواتین کو مختلف شعبوں میں بااختیار بنانے کی پالیسی کے تحت اس سال بھی خواتین کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں، جن میں حجاج کے ہجوم کو منظم کرنا، خواتین زائرین کی رہنمائی، طبی امداد کی فراہمی اور فلاحی و رضاکارانہ خدمات شامل ہیں۔

حرمِ مکی میں خواتین اہلکاروں اور رضاکاروں کی منظم موجودگی اس امر کی عکاس ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو جدید تربیت، انتظامی امور اور انسانی خدمت کے شعبوں میں مؤثر انداز میں تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کی خدمات کے باعث حج آپریشن مزید مربوط اور مؤثر ہوا ہے، جبکہ لاکھوں حجاج کو بہتر سہولیات، اطمینان اور محفوظ ماحول فراہم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں حج انتظامات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت Saudi Vision 2030 کے اہداف کا اہم حصہ ہے، جس کے تحت خواتین کو مذہبی، طبی، سماجی اور انتظامی شعبوں میں زیادہ مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
حج سیزن کے دوران خواتین کی فعال شرکت نہ صرف انتظامی معیار کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے ایک خوشگوار، منظم اور سہل تجربہ بھی یقینی بنا رہی ہے۔


