عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں اور مالیاتی ماہرین کی توجہ ایک بار پھر ڈیجیٹل اثاثوں کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ بٹ کوائن سمیت کئی بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں بھی اس شعبے کے مستقبل اور حکومتی پالیسیوں ، ٹیکسز پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق بٹ کوائن، جو گزشتہ سال ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئی تھی، شدید دباؤ کے بعد نمایاں کمی کا شکار ہوئی۔ بعد ازاں خریداری کے رجحان میں اضافے سے قیمت میں کچھ بہتری دیکھی گئی، تاہم مارکیٹ اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
کرپٹو کرنسی پر ٹیکس
انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICMAP) نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کرپٹو کرنسی اور فِن ٹیک (مالیاتی ٹیکنالوجی) کے شعبوں کے لیے جامع ٹیکس مراعاتی پیکیج متعارف کرایا جائے، تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں (Digital Assets) کو ملکی معیشت کے باضابطہ اور دستاویزی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔اس بارے ذراءع کا کہنا ہے کہ حکومتی حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق کرپٹو مارکیٹ میں حالیہ مندی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں بٹ کوائن کے روایتی چار سالہ مارکیٹ سائیکل، عالمی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی، شرح سود سے متعلق خدشات، اور بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول کے لیے فروخت شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی کشیدگی نے بھی خطرات سے بھرپور سرمایہ کاری کے شعبوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے اثرات ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی
پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسیوں میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً نوجوان طبقہ اس شعبے کو سرمایہ کاری اور آمدن کے نئے مواقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ تاہم حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غیر ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز پر سرمایہ کاری مالی نقصان، دھوکہ دہی اور دیگر خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
حکومتی سطح پر حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی اور ضابطہ بندی کے لیے اقدامات تیز کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے قیام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کرپٹو سیکٹر کو قانونی دائرہ کار میں لانا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ریگولیٹری ادارے کی جانب سے بین الاقوامی کرپٹو ایکسچینجز کے ساتھ رابطے اور مرحلہ وار منظوریوں کے عمل کو پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے نئے دور کی شروعات تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک اور متعلقہ ادارے ڈیجیٹل روپیہ متعارف کرانے کے امکانات پر بھی کام کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل کرنسی میں متوازن حکمت عملی
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس شعبے میں متوازن حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مکمل پابندی سے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ بغیر نگرانی کے کھلی آزادی مالیاتی خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
مذیڈ پڑھئِے
ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں بھونچال آگیا، سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر – urdureport.com
ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ مؤثر قوانین، سرمایہ کاروں کی شناخت کے نظام، شفاف ٹیکس پالیسی اور مضبوط نگرانی کے ذریعے کرپٹو مارکیٹ کو محفوظ اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان محتاط مگر مثبت انداز میں ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو ترقی دیتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے بلکہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں ملک کے کردار کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔


