اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے شیڈول میں تبدیلی پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی درخواست پر بجٹ اجلاس کی تاریخوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ بجٹ اب 5 جون کے بجائے 8، 10 یا 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ پارلیمانی امور بجٹ اجلاس سے متعلق ترمیم شدہ سمری وزیراعظم کو ارسال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو کل منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، تاہم این ای سی اجلاس کی تاخیر کے باعث وفاقی بجٹ کے شیڈول پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بجٹ 10جون کو پیش کیا جائے گا،بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی،ہم مداخلت کریں تو سہیل آفریدی کی حکومت 2 دن میں گر جائے گی۔
وفاقی حکومت کے اہداف
ادھر حکومت نے نئے مالی سال کے لیے اہم معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 4 ہزار 715 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔
مذید پڑھئِے
آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات :پٹرولیم لیوی میں پھر اضافہ۔بجلی گیس مہنگی – urdureport.com
کرپٹو مارکیٹ میں ہلچل، پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس کی تجاویز – urdureport.com
حکومتی منصوبے کے مطابق آئندہ بجٹ میں سرچارج کی مد میں سالانہ اوسطاً 2 ہزار 156 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ زراعت کے شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعت کا 4 فیصد اور خدمات کے شعبے کا 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام
وفاقی حکومت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ایک ہزار 126 ارب روپے خرچ کرے گی، جبکہ صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات کا مجموعی حجم 3 ہزار 138 ارب روپے ہوگا۔ صوبائی ترقیاتی بجٹ میں پنجاب کے لیے ایک ہزار 450 ارب روپے، سندھ کے لیے 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف وفاقی اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 451 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔


