ایران میں حکام نے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین اور نماز جنازہ کے مجوزہ انتظامات سے متعلق نئی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق آخری رسومات محرم الحرام کے آغاز کے قریب منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس سلسلے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔آخری رسومات میں دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
تہران میونسپلٹی کے سماجی و ثقافتی امور سے وابستہ عہدیدار محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ تدفین سے قبل کئی روز تک عوام کو آخری دیدار کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تہران میں مرکزی الوداعی تقریب منعقد ہوگی جس کے بعد نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی لیے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں خصوصی سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کی تیاری جاری ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شرکت کے لیے ایران پہنچ سکتے ہیں۔
نماز جنازہ اور تدفین کی وصیت
ایرانی ذرائع کے مطابق نماز جنازہ صرف تہران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قم اور مشہد میں بھی خصوصی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرحوم رہنما کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی۔
سرکاری حکام کے مطابق میت کو مختلف شہروں سے گزار کر مشہد منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں کے عوام کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع مل سکے۔ اس دوران متعدد شہروں میں خصوصی تقریبات اور دعائیہ اجتماعات متوقع ہیں۔
مذہبی و سماجی حلقوں کی شرکت
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عراق سمیت کئی ممالک کے مذہبی اور سماجی حلقوں نے بھی تقریبات میں شرکت اور میزبانی کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم حتمی فیصلے موجودہ سکیورٹی اور انتظامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
مذید پڑھئِں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ائی کی شہادت کی تصدیق،40 روزہ سوگ – urdureport.com
کویت ایرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ – urdureport.com
ایران کے ساتھ آئِندہ ہفتے معاہدہ طے پا جائے گا۔ٹرمپ – urdureport.com
تہران کے نائب میئر کے مطابق پاکستان، افغانستان، انڈیا، بنگلہ دیش، کشمیر اور اسلامی دنیا کے دیگر ممالک سے ’عزادار‘ اس موقع پر مشہد کا رُخ کریں گے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی حالیہ ہفتوں میں تدفین کی تاریخ سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ حتمی شیڈول کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ آخری رسومات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگی اور یہ تقریب ملکی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کی جا سکتی ہے۔


