آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں اتوار کی علی الصبح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ طور پر کالعدم تنظیم سے منسلک افراد کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان کے مطابق فائرنگ کا واقعہ دریک عیدگاہ کے قریب پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے بعد حالات بگڑ گئے۔ابتدائی طور پر ایک زخمی کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں انتظامیہ نے دو اموات کی تصدیق کی جبکہ متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔نتظامیہ کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق پلندری اور ہجیرہ سے تھا، اور ان کے خلاف مبینہ طور پر منشیات فروشی سمیت مختلف مقدمات درج تھے۔
انتظامیہ کے مطابق دریک عیدگاہ کے علاقے میں کریک ڈاؤن کے بعد کچھ مقامات خالی کرا لیے گئے ہیں، جبکہ آزاد پتن میں اب بھی 500 سے کم افراد موجود ہیں تاہم خطے میں اب بھی کشیدگی برقرار ہے۔
گزشتہ سے پیوستہ
آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ راولا کوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں قائم احتجاجی کیمپ کو سکیورٹی کارروائی کے ذریعے ختم کرا دیا گیا ہے۔ تاہم بعض دیگر مقامات پر مظاہرین اب بھی موجود ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے لکھا کہ پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان کے مطابق اتوار کی صبح سویرے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دریک عیدگاہ میں آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود احتجاجی شرکا منتشر ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران ایک شخص کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بعض مظاہرین نے سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی، جبکہ اہلکاروں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فائرنگ سے گریز کیا۔ حکام کے مطابق ایک بکتر بند گاڑی پر بھی گولیاں چلائی گئیں تاہم گاڑی محفوظ رہی اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا موقف
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پرامن دھرنے کے شرکا کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق لاٹھی چارج، آنسو گیس اور فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ علاقے میں سخت ناکہ بندی کے باعث زخمی افراد کو طبی امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا بھی آسان نہیں رہا۔
مذید خبریں
کشمیر احتجاج پانچویں روز میں داخل، حکام اور کارکنوں کے درمیان کشیدگی – urdureport.com
آزاد کشمیر کی 12 مہاجر نشستوں پر تنازع ، پورے کشمیر احتجاج میں – urdureport.com
یہ احتجاج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیر اسمبلی میں مہاجرینِ مقیم پاکستان کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کے حق میں کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین راولا کوٹ سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کرنا چاہتے تھے تاہم سکیورٹی اداروں نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے۔
کالعدم تنظیم
حکومت نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر بغاوت پر اکسانے اور ریاستی نظم و نسق کو چیلنج کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں تنظیم کی قیادت کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ روپوش رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں مجموعی طور پر کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں چار سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایگزٹ کنٹرول لسٹ
وزارتِ داخلہ نے کالعدم قرار دی گئی تنظیم کی کور کمیٹی اور فعال کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی سفارش بھی متعلقہ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
ادھر راولا کوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں روزمرہ زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بعض مقامات پر خوراک اور ضروری اشیائے صرف کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں جبکہ شہریوں نے احتیاطاً راشن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔


