امریکی صدر ڈونلڈ ترمپ Donald Trump نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب رہے تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آئے گی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ متوقع طور پر بہت قریب ہے اور جوہری پروگرام سمیت متعدد اہم معاملات پر پیشرفت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات یا مجوزہ معاہدے کی شقوں کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔تاہم دوسری جانب ایران میں عوام احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمارے عراقچی ،قالیباف ہمارے رہنما کے خون کا کیا بنا ؟

ایرانی موقف
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس تاثر سے اختلاف کیا ہے کہ معاہدہ فوری طور پر طے پا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت درکار ہے، اس لیے حتمی دستخط کے لیے کچھ وقت درکار ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر مذاکرات کا موجودہ ماحول برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس مرحلے پر کسی مخصوص تاریخ کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔
ایران میں مظاہرے
ایران امریہ ممکنہ معاہدے کے کچھ مخالفین نے عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف کے خلاف تہران میں مظاہرہ کیا ۔
یہ مظاہرہ تہران کے ابنِ سینا چوک میں منعقد ہوا جہاں مظاہرین نے ’قالیباف، عراقچی، ہمارے رہبر کے خون کا کیا ہوا؟‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔
مشرقِ وسطیٰ سکیورٹی صورتحال
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کی اطلاعات کے باعث خطے میں مکمل استحکام ابھی حاصل نہیں ہو سکا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع امن یا جنگ بندی منصوبے میں لبنان کی صورتحال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
مذید خبریں
ایران اور امریکا ممکنہ معاہدے کے قریب، چند دنوں میں اعلان متوقع – urdureport.com
اسی دوران ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر Ali Khamenei کی تدفین سے متعلق تقریبات جولائی کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جن کے لیے مختلف انتظامات جاری ہیں۔


