پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس نے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے اہم رہنما شوکت نواز میر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے مطابق انہیں ایک کارروائی کے دوران مظفرآباد اور باغ کے درمیان واقع علاقے سے حراست میں لیا گیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔
حکومتِ آزاد کشمیر نے حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے متعدد رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔
حکومتی مؤقف ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف بغاوت، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی، امن و امان میں خلل ڈالنے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد عوامی حقوق کے لیے پرامن تحریک ہے۔
شوکت نواز میر کون ہیں؟
شوکت نواز میر کا تعلق مظفرآباد سے ہے اور ان کا خاندان کئی دہائیوں سے اخبارات کی تقسیم کے کاروبار سے وابستہ رہا ہے۔ والد کے بعد انہوں نے یہی کاروبار سنبھالا اور ساتھ ہی کتابوں اور اسٹیشنری کی تجارت بھی شروع کی۔
ابتدائی طور پر وہ تاجر برادری کے مسائل، ٹیکسوں، مارکیٹ کے حقوق اور کاروباری مشکلات پر آواز بلند کرتے رہے۔ بعد ازاں مہنگائی، آٹے کی قیمتوں اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کے خلاف "سستا آٹا، سستی بجلی” مہم کے ذریعے عوامی سطح پر نمایاں ہوئے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک
یہ تحریک وقت گزرنے کے ساتھ وسیع ہوتی گئی اور شوکت نواز میر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔ سنہ 2024 میں لانگ مارچ، ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران ان کا کردار نمایاں رہا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے اور آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور دیگر مالی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
بعد ازاں تحریک نے صرف مہنگائی کے مسائل تک محدود رہنے کے بجائے حکومتی اصلاحات، اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی اور اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں سمیت دیگر آئینی و سیاسی مطالبات کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنا لیا۔
دیگر مطلوب رہنما
حکومت کی مطلوب افراد کی فہرست میں عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ اور سردار امان خان بھی شامل ہیں۔عمر نذیر کشمیری راولاکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ کا تعلق ڈڈھیال سے ہے۔
سردار امان خان ضلع سدھنوتی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ انٹرنیٹ سروس کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کی ضلعی قیادت میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھی مختلف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
حالیہ گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی سیاسی صورتحال ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جبکہ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔


