مظفرآباد: آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے احتجاجی دھرنے اور مظاہروں کے حوالے سے انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
کمشنر پونچھ سردار وحید خان نے کہا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل مظاہرین پرامن طور پر دھرنا ختم کر دیتے ہیں تو بہتر ہوگا، بصورت دیگر انتظامیہ قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ ان کے مطابق موجودہ احتجاج کے بعد صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے، تاہم انتخابی عمل ہر صورت پرامن ماحول میں مکمل کرایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ مظاہرین کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث وہ مقررہ دھرنا مقام سے کچھ فاصلے پر جمع ہوئے اور وہاں سے مختصر احتجاجی ریلی نکالی۔ 27 جولائی کو الیکشن تک مظاہرین ’عزت سے اٹھ جاتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ انہیں اٹھانا پڑے گا۔
دوسری جانب مظفرآباد میں مختلف مقامات پر شہریوں نے پرامن احتجاج کیا، جس میں خواتین، بچوں اور وکلا سمیت مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک مقام پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی، جس دوران لاٹھی چارج اور چند افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔
سیکیورٹی کی صورتحال
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے بتایا کہ احتجاج کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق چند افراد نے ایک شاہراہ بند کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظفرآباد سمیت دیگر اضلاع کو ملانے والے تمام اہم داخلی اور خارجی راستے کھلے ہیں اور آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
واضح رہے کہ حکومت آزاد کشمیر نے گزشتہ سال جون میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تنظیم کے خلاف امن و امان کو نقصان پہنچانے اور ریاست میں انتشار پھیلانے کے شواہد موجود ہیں۔ اس کے باوجود کمیٹی مہاجرین کی مخصوص نشستوں سمیت مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک جاری رکھے ہوئے ہے۔
کمشنر کا موقف
کمشنر پونچھ کے مطابق مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں صورتحال بڑی حد تک معمول پر ہے، جبکہ پونچھ ڈویژن کے راولاکوٹ اور پلندری میں انتظامیہ خصوصی طور پر حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی اضلاع میں انتخابات کے پرامن انعقاد کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خطے میں انٹرنیٹ سروس تاحال بحال نہیں کی گئی اور حالات مکمل طور پر معمول پر آنے تک اس کی بحالی کا امکان کم ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا


