لاہور: لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، تاوان، جنسی زیادتی اور تشدد کے سنگین مقدمے میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ مرکزی ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ متاثرہ خواتین کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے بیانات، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں خواتین سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری ملاقات کے بعد پاکستان آئی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین 26 جون کو پاکستان پہنچیں، مختلف شہروں کا سفر کیا اور بعد ازاں لاہور آئیں، جہاں 29 جون کو مبینہ طور پر انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے خواتین کے اہل خانہ سے بھاری رقم بطور تاوان طلب کی اور انہیں دھمکیاں بھی دیں۔
ملزمان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی ؟
تحقیقات کے مطابق متاثرہ خواتین موقع ملنے پر ملزمان کی گاڑی سے نکل کر ایک محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں، جہاں سے پولیس نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد مرکزی ملزم سمیت دیگر افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مکان، جہاں پولیس نے کارروائی کی، وہاں ایک اہم سیاسی شخصیت کے رشتہ دار کرائے پر مقیم رہے تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل طور پر شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
خواتین کہاں کہاں گھومیں؟
سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ خواتین مبینہ طور پر مزید سرمایہ کاری کے لیے پاکستان آئیںاور ان کی تین جولائی کو واپسی تھی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ دو تین دن یہ خواتین اور ملزمان مختلف شہروں لاہور، اسلام آباد اور مری میں گھومتیں رہیں ملاقاتیں کیں۔واپسی کے لیے جب لاھور آئیں تو ان میں سے ایک ملزم نے کہا میں تو اپنے پیسے واپس لیے بغیر ان لڑکیوں کو پاکستان سے نہیں جانے دوں گا۔
مذید خبریں
برطانیہ:کمسن بچیوں کا ریپ کرنے والے گینگ کے سربراہ "ڈیڈی”کی پاکستان منتقلی – urdureport.com
غیر ملکی خواتین کے چونکا دینے والے انکشافات،کہانی میں نیا موڑ : باس گرفتار ؟ – urdureport.com
’جس کے بعد اس نے اپنے دوست کی مدد سے کرائے پر گھر لیا اور اس کے دوست نے دو غنڈے بلا کر لڑکیوں کو اغوا کروایا اور پھر ان کے باپ کو کال کرکے اغوا برائے تاوان کے لیے پیسے مانگے۔
باس کون؟
اس کیس میں ’باس‘ نامی شخص کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ یہ وحید نامی شخص ہے اور اس پر لگ بھگ 10 مقدمات ہیں۔
رپورٹس کا انتظار
پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے طبی معائنے اور فرانزک ٹیسٹ مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ رپورٹس کا انتظار ہے۔ ملزمان کے خلاف اغوا، تاوان، جنسی زیادتی اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔


