فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ناک آؤٹ مرحلے میں فرانس، میکسیکو اور ناروے نے اپنے اپنے میچ جیت کر پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) میں کامیابی کے ساتھ اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کر لی۔
فرانس نے نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم میں کھیلے گئے مقابلے میں سویڈن کو 3-0 سے شکست دی۔ ٹیم کی کامیابی میں کپتان کیلیان ایمباپے نے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے دو خوبصورت گول کیے، جبکہ تیسرا گول بریڈلی بارکولا نے اسکور کیا۔

ایمباپے کے خوبصورت گول
ایمباپے نے اس ٹورنامنٹ میں اپنے گولوں کی تعداد چھ کر لی، جس کے بعد وہ لیونل میسی کے ساتھ مشترکہ طور پر ایونٹ کے ٹاپ اسکورر بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ورلڈ کپ مقابلوں میں ان کے مجموعی گولوں کی تعداد 18 میچز میں 18 ہو گئی، جو میسی کے 19 گولوں کے ریکارڈ سے صرف ایک گول کم ہے۔
اگرچہ پہلے ہاف میں سویڈن نے سخت مزاحمت کی، تاہم وقفے سے کچھ دیر قبل ایمباپے نے شاندار انفرادی کوشش سے گول کر کے فرانس کو برتری دلائی۔ دوسرے ہاف میں فرانسیسی ٹیم نے مزید دو گول کر کے کامیابی یقینی بنا لی۔
میکسیکو کی فتح
دوسری جانب میزبان میکسیکو نے ازٹیکا سٹیڈیم میں ایکواڈور کو 2-0 سے شکست دے کر ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں تقریباً چار دہائیوں بعد پہلی فتح حاصل کی۔
خراب موسم کے باعث میچ ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، لیکن آغاز سے ہی میکسیکو نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ جولیان کوئنونیس نے پہلا گول اسکور کیا اور بعد میں راؤل جمنیز کے گول میں بھی اہم معاونت فراہم کی۔ ایکواڈور نے دوسرے ہاف میں واپسی کی کوشش کی، تاہم میکسیکو نے برتری برقرار رکھتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔
ناروے کی جیت
ادھر ناروے نے بھی اپنی تاریخ رقم کرتے ہوئے آئیوری کوسٹ کو 2-1 سے شکست دے کر ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہلی فتح حاصل کر لی۔
مذید خبریں
رونالڈو کی میسی سے ٹکراو پر دلچسپ رائے، ’یہ شاندار لمحہ ہوگا‘ – urdureport.com
میسی نے ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کر دی، مسلسل 7 میچوں میں گول کرنے فٹبالر – urdureport.com
ٹیکساس کے آرلنگٹن میں کھیلے گئے میچ میں ناروے کی جانب سے انتونیو نوسا نے پہلا گول کیا، جس کے جواب میں آئیوری کوسٹ کے اماد دیالو نے اسکور برابر کر دیا۔ تاہم میچ کے 86ویں منٹ میں اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے فیصلہ کن گول کر کے ناروے کو تاریخی کامیابی دلا دی۔
اس فتح کے بعد ناروے اب راؤنڈ آف 16 میں برازیل کا سامنا کرے گا، جہاں کامیاب ٹیم کوارٹر فائنل میں جگہ بنائے گی۔


