برطانیہ کی ایک نوجوان خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ کم عمری میں اداکاری کی تربیت دینے والے اپنے استاد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد نہ صرف ان کی زندگی بدل گئی بلکہ اداکارہ بننے کا خواب بھی ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔
21 سالہ اولیویا وودارووچ نے اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے دسمبر 2020 میں اداکاری کی تربیت شروع کی تھی۔ ان کی والدہ کی ملاقات اداکاری کے استاد الیگزینڈر ویسٹ ووڈ سے اس وقت ہوئی تھی جب وہ ان کے فلیٹ کی تزئین و آرائش کا کام کر رہی تھیں، جس کے بعد اولیویا نے ان سے کلاسز لینا شروع کیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اولیویا کے مطابق ابتدا میں ویسٹ ووڈ کا رویہ معمول کے مطابق تھا، تاہم چند ہی نشستوں بعد اس نے پیشہ ورانہ تربیت کے نام پر نامناسب مطالبات شروع کر دیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ استاد نے اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی استحصال کیا اور بعد ازاں متعدد مرتبہ ان کا ریپ کیا۔

،تصویر کا ذریعہWest Midlands Police،تصویر کا کیپشنفروری 2025 میں ویسٹ ووڈ کو 26 بچوں اور ان سے اداکاری سیکھنے والے دو شاگردوں کے خلاف 26 جرائم ارتکاب
متاثرہ خاتون کا بیان
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے مزید کلاسز لینے سے انکار کیا تو ویسٹ ووڈ نے مبینہ طور پر ایک بھاری جرمانے اور ان کی والدہ سے رابطہ کرنے کی دھمکی دے کر انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث وہ طویل عرصے تک خاموش رہیں۔
اولیویا نے اگست 2021 میں اپنی والدہ اور پولیس کو واقعے سے آگاہ کیا، تاہم ابتدائی طور پر ناکافی شواہد کی وجہ سے کیس بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں 2023 میں دیگر متاثرین سامنے آنے کے بعد تحقیقات دوبارہ شروع کی گئیں۔
عدالتی کاروائی
عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے شواہد کے مطابق الیگزینڈر ویسٹ ووڈ کو متعدد بچوں اور نوجوان شاگردوں کے خلاف جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ فروری 2025 میں عدالت نے اسے 26 مختلف جرائم میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنائی۔
مذید خبریں
لاہور: دو غیر ملکی خواتین کا اغوا اور زیادتی،ملزم ڈپٹی وزیر اعظم کا مبینہ رشتہ دار – urdureport.com
گوجرانوالہ عامل کے کہنے پر 4 سالہ بچی کو آگ میں جلانے کی کوشش – urdureport.com
سزا سناتے ہوئے جج نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے اپنی محدود شہرت اور استاد کے منصب کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے کم عمر افراد کو نشانہ بنایا اور اداکاری کی کلاسوں کو جنسی استحصال کا ذریعہ بنایا۔
اولیویا کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے اثرات آج بھی ان کی زندگی پر موجود ہیں۔ انہیں ڈراؤنے خواب آتے ہیں، روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور وہ اب اداکاری کو بطور پیشہ اختیار نہیں کرنا چاہتیں۔


