امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سویلین جوہری تعاون کا معاہدہ صرف اسی صورت میں حتمی منظوری حاصل کرے گا جب سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی محکمۂ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کے معاہدے کو منظور کیا جائے گا، تاہم اس پروگرام میں یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور اس کا دائرہ کار صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد تک محدود رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایسے سول جوہری منصوبوں پر اعتراض نہیں جو بجلی کی پیداوار اور دیگر پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہوں، جیسا کہ ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک میں موجود پروگرامز ہیں۔
معاہدے کی بنیادی شرط
ٹرمپ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کی حتمی منظوری اس شرط سے منسلک ہوگی کہ ریاض اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) کا حصہ بنے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےواضع کیا کہ سعودی جوہری معاہدہ ’اس بات سے مشروط ہو گا کہ سعودی عرب انتہائی قابل احترام اور کامیاب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو۔‘
سعودی حکومت نے تاحال امریکی صدر کے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ اسرا*ئیلی وزیراعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
جوہری تعاون کا معاہدہ کیا ہے؟
امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ معاہدہ امریکی قانون کے تحت معروف "123 ایگریمنٹ” کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب میں پرامن جوہری توانائی پروگرام کے قیام میں امریکی تعاون فراہم کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جس کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کے سول نیوکلیئر سیکٹر میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے مواقع حاصل ہوں گے۔
اگرچہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم بعض امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مستقبل میں یورینیم کی افزودگی سے متعلق امکانات بھی زیر غور آ سکتے ہیں، جس پر اسرائیل سمیت کئی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسرا*ئیل میں مختلف آراء
اسرا*ئیلی وزیر اقتصادیات نیر برکات نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف بجلی اور دیگر پُرامن ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے تو اسرا*ئیل کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
اس کے برعکس اسرا*ئیل کے سابق وزیر دفاع اور سابق وزیر خارجہ اویگدور لیبرمین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام مستقبل میں عسکری جوہری صلاحیت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا۔
ابراہیمی معاہدے کیا ہیں؟
ابراہیمی معاہدے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرا*ئیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
ان معاہدوں کا مقصد عرب ممالک اور اسرا*ئیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا اور خطے میں اقتصادی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
سعودی عرب کا دیرینہ مؤقف
سعودی عرب مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرا*ئیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فل*سط*ینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ قبول سیاسی حل سامنے نہیں آتا، جس میں مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی فلس*طینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
اسی مؤقف کے باعث ریاض اب تک ابراہیمی معاہدوں میں شامل نہیں ہوا، حالانکہ گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مذید خبریں
کیا سعودی عرب پاکستان ابراہیمی منصوبے پر دستخط کرکے اسرا*ئیل کو تسیلم کریں گے؟ – urdureport.com
ٹرمپ کے مسلم ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت پر پاکستان میں نئی بحث – urdureport.com
پاکستان سمیت دیگر ممالک کا بھی ذکر
یاد رہے کہ مئی 2026 میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت متعدد مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں تاکہ اسر*ائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل وسیع ہو سکے۔
خطے پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق اگر امریکہ سعودی عرب کو سول جوہری پروگرام کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ اسرا*ئیل سے تعلقات کی شرط بھی منسلک رہتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری، سلامتی اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دوسری جانب فلسطین کے مسئلے پر سعودی عرب کے دیرینہ مؤقف کے باعث فوری طور پر کسی بڑی پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔


