واشنگٹن/اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کی حتمی منظوری نہیں دی کیونکہ ان کے بقول تہران اب مذاکرات کے حوالے سے پہلے سے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
اوول آفس (Oval Office) میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا، "نہیں، میں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔” انہوں نے مزید کہا، "دیکھیں، ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ مزید سنجیدہ ہو رہے ہیں، شاید اس کی واضح وجہ موجود ہے۔”
اگرچہ امریکی صدر نے مذاکرات کے امکانات کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ایران تاحال کسی جامع معاہدے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچا تو یہ امریکہ کی ناقابلِ قبول حد (Red Line) ہو گی۔
کشیدگی پھیلنے کے خدشات
ادھر مشرق وسطیٰ (Middle East) میں جاری کشیدگی کے باعث خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے مختلف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں جبکہ امریکی حکام نے بھی خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ بحرین (Bahrain)، اردن (Jordan) اور کویت (Kuwait) میں خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، تاہم متعدد ایرانی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ٹرمپ نے روس (Russia) اور چین (China) کے کردار پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ (Xi Jinping) اور روسی صدر ولادی میر پوتن (Vladimir Putin) ایران کو براہِ راست فوجی مدد فراہم نہیں کریں گے۔ ان کے الفاظ تھے، "صدر شی (جن پنگ) نے کہا کہ وہ اس میں حصہ نہیں لیں گے، اور صدر (ولادی میر) پوتن نے بھی یہی بات کہی۔ مجھے ان پر بھروسہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھے مایوس کرنا چاہیں گے۔”
پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں
دوسری جانب سفارتی سطح پر پاکستان (Pakistan) بھی سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق چین (China) کی حوصلہ افزائی کے بعد اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرانے کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی (Eskandar Momeni) نے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران اعلیٰ حکام اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر (Field Marshal Asim Munir) سے ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی سکیورٹی اور سفارتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار کا بیان
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار (Ishaq Dar) نے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران بھی مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور ممکنہ سفارتی راستوں پر چینی قیادت سے بات چیت کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی کشیدگی نہ صرف عالمی تیل کی رسد بلکہ چین کے تجارتی مفادات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اسی لیے بیجنگ خطے میں فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کر رہا ہے۔
مذید خبریں
ٹرمپ نے سعودی جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط کر دیا – urdureport.com
حوثی باغیوں کے حملے اور شہباز شریف کی ولی عہد سے گفتگو ،کیا جنگ پھیل رہی ہے؟ – urdureport.com
مسجد اقصیٰ سے متصل بابا فریدؒ کی خانقاہ : ہندوستان سے صدیوں پرانا رشتہ آج بھی قائم – urdureport.com
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اگر مذاکرات کو دوبارہ کامیاب بنانا ہے تو سب سے پہلے سعودی عرب (Saudi Arabia) اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف حملوں کا سلسلہ رکنا ضروری ہے، اور یہی پیغام ایرانی حکام تک بھی پہنچایا گیا ہے۔


