واشنگٹن/بغداد/عمان: مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں پر مبینہ اچانک حملے کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو "سخت جواب” دے گا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران نے امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے اچانک میزائل حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ حملہ بروقت ناکام بنا دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کئی روز سے جاری نسبتاً پرسکون صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اردن (Jordan) کی فوج نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح ایران سے داغے گئے پانچ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے، جس سے ممکنہ جانی نقصان ٹل گیا۔
امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ کارروائی
امریکی سینٹرل کمانڈ (US Central Command – CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی فورسز نے بھی عراق میں ایران نواز پاپولر موبلائزیشن فورسز (Popular Mobilization Forces – PMF) کے ٹھکانوں پر امریکی کارروائی میں حصہ لیا۔
پی ایم ایف کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اب تک خود کو مشرقِ وسطیٰ کے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایران نواز گروپ کی بغداد حکومت کو وارننگ
عراق میں سرگرم ایران نواز ملیشیاؤں کے اتحاد نے بغداد حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی اور سعودی حملوں کا مؤثر جواب نہ دیا گیا تو وہ خود کارروائی کریں گے۔ اس بیان کے بعد عراق میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈی پریشان
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بحری جہازوں نے متبادل سمندری راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں کیونکہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کے خلاف ناکہ بندی کے اعلان کے بعد باب المندب (Bab al-Mandeb Strait) سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔
مذید خبریں
سعودی عرب :پاکستان کے لیے ریلیف، 5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی 3 سال کی موخر – urdureport.com
اسی طرح آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے بحری آمدورفت بھی انتہائی محدود سطح پر پہنچ چکی ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور تجارتی سرگرمیوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


