تہران/واشنگٹن/عمان: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جان کی بازی ہار گئے اور دو بچے زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل فضائی حدود میں ہی تباہ کر دیے۔
جزیرہ قشم پر امریکی حملے
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے جزیرہ قشم کے علاقے چاہ تنگو میں امریکی حملے US attack Iran کے دوران ایک رہائشی گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز نے تصدیق کی کہ حملے میں میاں، بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ گھر میں موجود دو دیگر بچے زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا تھا، جو رات بھر جاری رہا۔ بعد ازاں متعلقہ حکام نے بتایا کہ تباہ شدہ مکان سے تمام متاثرہ افراد کو نکال لیا گیا ہے اور زخمی بچوں کا علاج جاری ہے۔
ہرمزگان کے سیاسی، سکیورٹی اور سماجی امور کے نائب گورنر احمد نفیسی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی عمارت پر حملے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، جبکہ نقصانات کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کی جنگ میں شمولیت
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ابتدا میں خود کو تنازع سے دور رکھنے کی کوشش کی، تاہم حالیہ ڈرون حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے بعد ریاض پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب Saudiarab نے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن پر سعودی سرزمین پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اب سعودی قیادت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا جوابی کارروائیاں جاری رکھی جائیں یا سفارتی اور مالی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
سعودی عرب مکمل جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے کیونکہ ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 منصوبے کا انحصار غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید صنعتوں اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ پر ہے۔ 2019 میں ابقیق اور خریص کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں نے سعودی عرب کو یہ احساس دلایا تھا کہ اس کا اہم اقتصادی ڈھانچہ ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے سے محفوظ نہیں، یہی وجہ ہے کہ ریاض موجودہ بحران میں عسکری ردعمل اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی افواج کا اعلان
ادھر اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کی صبح ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ میزائل ملک کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔ فوجی ترجمان کے مطابق ریڈار نظام نے میزائلوں کا بروقت سراغ لگا لیا تھا، جس کے بعد فضائی دفاعی یونٹس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
اردنی فوج کے بیان سے قبل ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ اردن میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال ایک فوجی اڈے کی جانب متعدد میزائل فائر کیے گئے ہیں۔ اس سے ایک روز قبل امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے بھی کہا تھا کہ ایران نے اردن میں موجود امریکی اڈے پر کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم تمام میزائل راستے میں ہی تباہ کر دیے گئے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج، آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں ایران کے اندر وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے گئے۔
کاروائیواں کا آغاز
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں مشرقی امریکی وقت کے مطابق بدھ کی شام تقریباً آٹھ بجے شروع ہوئیں اور ایک گھنٹے تک جاری رہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب سے منسلک درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی دفاعی نظام، نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق مقامات شامل تھے۔
مذید خبریں
سعودی عرب :پاکستان کے لیے ریلیف، 5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی 3 سال کی موخر – urdureport.com
سینٹکام نے اپنی کارروائی کو مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ایرانی حملوں کی کوشش کا "سخت اور فیصلہ کن جواب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام جاری رکھے گا۔
حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔


