اپ ڈیٹ سٹوری
عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی فیفا (FIFA) نے دنیا بھر سے سامنے آنے والی شدید تنقید اور مخالفت کے بعد اپنے تجارتی ڈھانچے میں بیرونی سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کا متنازع منصوبہ واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فیفا (FIFA) ایک نئی کمرشل کمپنی (Commercial Company) قائم کرنا چاہتی تھی جو فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) سمیت بڑے ٹورنامنٹس کے تجارتی حقوق اور کاروباری سرگرمیوں کا انتظام سنبھالتی۔ منصوبے میں اس کمپنی کے تقریباً 20 فیصد حصص فروخت کر کے 4.2 ارب ڈالر (4.2 Billion Dollars) تک سرمایہ اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، جس کے مطابق نئی کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 20 ارب ڈالربنتی۔
گزشتہ سے پیوست
زیورخ: عالمی فٹ بال میں ایک نیا بحران پیدا ہو گیا ہے، جہاں یورپی فٹ بال تنظیم (UEFA) نے فیفا (FIFA) کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری (Private Investment) منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تجویز واپس نہ لی گئی تو یورپ کی کوئی بھی قومی ٹیم مستقبل کے فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) اور دیگر فیفا مقابلوں میں حصہ نہیں لے گی۔
رائٹرز کے مطابق یو ای ایف اے (UEFA) کے تمام 55 رکن ممالک نے ہنگامی اجلاس میں فیفا نجی سرمایہ کاری منصوبے (FIFA Private Investment Plan) کی متفقہ مخالفت کی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ورلڈ کپ (World Cup) کو سرمایہ کاری کی مصنوعات میں تبدیل کرنا عالمی فٹ بال کے مفاد میں نہیں۔
فیفا (FIFA) کے صدر جیانی انفینٹینو (Gianni Infantino) کے منصوبے کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا جائے گا، جو فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) اور دیگر عالمی مقابلوں کے تجارتی معاملات سنبھالے گا، جبکہ نجی سرمایہ کاروں کو اس میں اقلیتی شیئرز دیے جائیں گے۔
فیفا نے اپنی 211 رکن ایسوسی ایشنز کو پیشکش کی ہے کہ اگر 19 ستمبر تک منصوبے کی منظوری دے دی جاتی ہے تو یکم جنوری 2027 سے شروع ہونے والے 10 ارب ڈالر کے فنڈ سے ہر رکن کو 4 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے، بصورت دیگر فنڈنگ 2.7 ارب ڈالر تک محدود رہے گی۔
تحفظات
دوسری جانب کونکاکاف (CONCACAF) نے بھی اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایشین فٹ بال کنفیڈریشن (Asian Football Confederation – AFC) نے کہا ہے کہ فیفا نے اس اہم معاملے پر ایشیائی تنظیم سے مشاورت نہیں کی، جو ناقابل قبول ہے۔
مذید خبریں
فیفا ورلڈ کپ 2030: سوسالہ جشن ، منفرد عالمی کپ،چھ میزبان کوالیفائیر – urdureport.com
میسی ورلڈ کپ کے بعد بھی کیوں ریٹائر نہیں ہوں گے ؟ – urdureport.com
اے ایف سی (AFC) کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ (Sheikh Salman bin Ibrahim Al Khalifa) کا کہنا ہے کہ تمام براعظمی تنظیموں کی حمایت کے بغیر اس نوعیت کی اصلاحات کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
عالمی کھلاڑیوں کی تنظیم ففپرو (FIFPRO) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر نجی سرمایہ کاری (Private Investment) کا یہ ماڈل نافذ ہوا تو عالمی مقابلوں، کھلاڑیوں کے حقوق اور پیشہ ورانہ فٹ بال کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر یو ای ایف اے بائیکاٹ (UEFA Boycott) حقیقت بن گیا تو 2027 کے خواتین فیفا ورلڈ کپ (FIFA Women’s World Cup) اور 2030 کے فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup 2030) کی کامیاب میزبانی اور عالمی فٹ بال کے نظام پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔


