مراکش سے سپین کے خودمختار شہر سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہزاروں تارکینِ وطن (Migrants) نے سمندری راستہ اور سرحدی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 34 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ صورتحال کے پیش نظر سپین (Spain) نے سیوتا (Ceuta) میں فوج تعینات کرنے اور سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق بڑی تعداد میں تارکینِ وطن (Migrants) نے سمندر کے راستے سیوتا پہنچنے کی کوشش کی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً 60 ہزار افراد شہر میں داخل ہوئے یا داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ متعدد افراد تیر کر سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
The INVASION of Spain is unfolding right before our eyes 🇪🇸🚨
Prime Minister Pedro Sanchez's government policies are actively encouraging massive waves of migration from Africa into Spain.
The Spanish territory of Ceuta – an enclave bordering Morocco near the Strait of… pic.twitter.com/w8i0JR04yR
— Predictivemoney (@Predictivemoney) July 30, 2026
میڈیا سے گفتگو
سیوتا کی مقامی حکومت کے سربراہ خوان ہیسوس ویواس (Juan Jesus Vivas) نے میڈیا کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 34 تک پہنچ چکی ہے، تاہم اموات کی وجوہات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب سپین کے حکام نے تصدیق کی کہ سمندر کے راستے سیوتا (Ceuta) پہنچنے کی کوشش کرنے والے کم از کم نو تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق رات بھر مراکش (Morocco) سے سپین کی سرحد عبور کرنے کی کوششیں جاری رہیں، جبکہ جمعہ کی صبح بھی متعدد افراد سیوتا پہنچنے کی کوشش کرتے رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مجموعی طور پر کتنے افراد سپین میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
یورپ میں داخلے کے راستے
سیوتا اور ملیلہ (Melilla) طویل عرصے سے یورپ (Europe) پہنچنے کے خواہش مند تارکینِ وطن کے لیے اہم راستے سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ سپین اور مراکش کے درمیان ایک حساس سفارتی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
مذید خبریں
وزیر داخلہ کا بیان ان کی زاتی رائے ہے اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر – urdureport.com
ریاض ایئر کا پاکستان کے لیے پروازیں شروع کرنے کا اعلان – urdureport.com
سعودی عرب ٹورسٹ پیکیج ویزا متعارف، پاکستانیوں کے لیے 48 گھنٹوں میں – urdureport.com
دوسری جانب اٹلی (Italy) نے مطالبہ کیا ہے کہ سپین کو شینگن زون (Schengen Zone) سے معطل کرنے پر غور کیا جائے، جس پر سپین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے میڈرڈ (Madrid) میں تعینات اٹلی کے سفیر کو طلب کر لیا۔
سپین کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مسلح افواج کو سیول گارڈز (Civil Guards) کی معاونت کے لیے تعینات کیا جائے گا، جبکہ کوسٹ گارڈ (Coast Guard) کے بحری جہاز اور غوطہ خور ٹیمیں بھی سیوتا بھیجی جا رہی ہیں۔


