سوات (Swat): خیبر پختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) کے ضلع سوات کے علاقے کبل (Kabal) میں پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے (Suicide Bombing) میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 15 سے زائد زخمی ہو گئے۔یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب وادی میں دیرپا امن کے مطالبے کے لیے نکالی گئی ریلی اختتام پذیر ہو ہوئی۔
ضلعی انتظامیہ (District Administration) کے مطابق دھماکے کے فوری بعد ریسکیو 1122 (Rescue 1122)، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں (Law Enforcement Agencies) نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ہسپتال ذرائع
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی کے مطابق سیدو شریف سینٹرل ہسپتال میں نو جبکہ کبل ہسپتال میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ (Federal Interior Minister) محسن نقوی (Mohsin Naqvi) نے واقعے کو خودکش حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش بمبار (Suicide Bomber) کو تھانے کے اندر داخل ہونے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں حملہ آور نے گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے کے وقت پولیس سٹیشن کے قریب دہشت گردی (Terrorism) کے بڑھتے واقعات کے خلاف شہریوں کا ایک امن مظاہرہ (Peace Protest) بھی جاری تھا، جس کی وجہ سے علاقے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ایمرجنسی نافذ
دھماکے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی، جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز ، محکمہ صحت ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے عملے کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعظم (Prime Minister) شہباز شریف (Shehbaz Sharif) نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاست کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
مذید خبریں
مظفر آباد : دوسرے مرحلے کی پولنگ جاری مگر صورتحال میں کشیدگی – urdureport.com
افغانستان :مخصوص لباس نہ پہننے پر طالبان نے مذید خواتین کو حراست میں لے لیا – urdureport.com
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران پولیس تھانوں، چیک پوسٹوں (Check Posts) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں سیکیورٹی صورتحال (Security Situation) ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے۔


