امریکہ نے سیاحتی اور کاروباری ویزوں (B1/B2) کے لیے متعارف کرایا گیا ویزا بانڈ پروگرام مستقل بنیادوں پر نافذ کر دیا ہے، تاہم پاکستان اس پروگرام سے مستثنیٰ رہے گا۔ نئی پالیسی کے تحت صرف منتخب ممالک کے شہریوں کو ویزا کے اجرا سے قبل 10 ہزار سے 20 ہزار امریکی ڈالر تک قابلِ واپسی مالی ضمانت جمع کرانا ہوگی۔
امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والی فہرست کے مطابق اس پروگرام میں 50 ممالک شامل کیے گئے ہیں، جن میں جنوبی ایشیا سے بنگلہ دیش اور نیپال شامل ہیں، جبکہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور ایران اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔ افریقی ممالک کی بڑی تعداد کے علاوہ کیریبین، ایشیا اور بحرالکاہل کے کئی ممالک پر بھی یہ شرط لاگو ہوگی۔
ویزا بانڈ کیوں جاری کیا گیا؟
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 2025 میں شروع کیے گئے آزمائشی ویزا بانڈ پروگرام کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام سے ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام (اوور اسٹے) کے واقعات میں نمایاں کمی آئی اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد بہتر ہوا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں ان ممالک کے 45 ہزار 488 شہری ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ میں مقیم رہے، جبکہ پائلٹ پروگرام کے پہلے 10 ماہ کے دوران ایسے کیسز کی تعداد 50 سے بھی کم رہی۔
نئی پالیسی کے تحت امریکی قونصلر افسران ہر درخواست گزار کے حالات کا انفرادی جائزہ لے کر 10 ہزار، 15 ہزار یا زیادہ سے زیادہ 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ مقرر کر سکیں گے۔ اس فیصلے میں درخواست گزار کی مالی حیثیت، ملازمت، سفری مقصد، تعلیمی پس منظر، امریکہ سے روابط اور امیگریشن قوانین کی پابندی کے امکانات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
رقم کی واپسی؟
امریکی حکام کے مطابق اگر ویزا ہولڈر مقررہ مدت کے اندر امریکہ چھوڑ دے اور ویزا کی تمام شرائط پر عمل کرے تو جمع کرائی گئی ضمانتی رقم مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی۔ تاہم اگر کوئی شخص اوور اسٹے کرے، ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرے یا غیر مجاز طور پر اپنی امیگریشن حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرے تو پوری بانڈ رقم ضبط کی جا سکتی ہے۔
مذید خبریں
امریکی عدالت نے H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس ختم کر دی، ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا – urdureport.com
امریکی اہلکار کا بڑا اسکینڈل: خفیہ معلومات پر شرط لگا کر 4 لاکھ ڈالر کما لیے – urdureport.com
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام صرف کاروباری (B1) اور سیاحتی (B2) ویزوں کے درخواست گزاروں پر لاگو ہوگا، جبکہ پاکستانی شہریوں کو فی الحال امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے اس مالی ضمانت کی شرط کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔


